باروئی پور کی معصوم بیٹی، درندوں نے پوری انسانیت کو شرمندہ کیا
باروئی پور میں کم سن لڑکی کے قتل پر غصہ، سیانی گھوش نے شفاف تحقیقات اور ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
مغربی بنگال کے علاقے باروئی پور میں ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور پھر قتل کے واقعے پر سیاسی اور عوامی ردِعمل میں شدت آ گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مختلف سیاسی رہنما متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کے لیے پہنچ رہے ہیں، جبکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ترنمول کانگریس کی باغی رہنما سیانی گھوش منگل کے روز باروئی پور پہنچیں اور مقتولہ کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاندان کے لیے اپنی بیٹی کو اس طرح کھو دینا ناقابلِ برداشت صدمہ ہے، اور اس درد کو ہر حساس انسان محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پورے معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔

سیانی گھوش نے مزید کہا کہ جو بھی افراد اس جرم میں ملوث ثابت ہوں، انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف صرف متاثرہ خاندان ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب مقتولہ کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ لڑکی کو قتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پولیس نے زیادتی سے متعلق دفعات شامل نہیں کیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے۔
بعد ازاں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمے میں تبدیلی کرتے ہوئے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون پوکسو (POCSO) کی متعلقہ دفعات کے ساتھ ریپ کا مقدمہ بھی درج کر لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش تمام شواہد اور فرانزک رپورٹوں کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ادھر ترنمول کانگریس نے ایک اور معاملے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ پارٹی کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جب باروئی پور جا کر متاثرہ خاندان سے ملاقات کا ارادہ کیا تو ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، جسے پارٹی نے غیر ضروری اقدام قرار دیا۔

ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے سوشل میڈیا پر چند تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں کولکاتا کے علاقے کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی رہائش گاہ کے باہر پولیس اہلکار موجود دکھائی دے رہے ہیں۔ ان تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پارٹی کے متعدد کارکن اور رہنما بھی وہاں جمع ہو گئے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جب کہ باروئی پور واقعے کی تحقیقات بدستور جاری ہیں اور عوام کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔






