شاہ رخ، اجے دیوگن، ٹائیگر شروف کو ایف ڈی اے کا نوٹس
مہاراشٹر ایف ڈی اے نے وِمل الائچی اشتہار پر شاہ رخ، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردیا۔
ممبئی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بالی ووڈ کے معروف اداکاروں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو وِمل الائچی کے اشتہار میں کام کرنے پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ ریاستی حکام نے اس معاملے میں اشتہار کے ذریعے ممنوعہ مصنوعات کی مبینہ بالواسطہ تشہیر کے امکان پر سوال اٹھائے ہیں۔ایف ڈی اے کی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہاراشٹر میں گٹکا اور پان مسالا سمیت بعض تمباکو سے متعلق مصنوعات کے خلاف حکومت کی کارروائی مزید سخت کی گئی ہے۔ 13 جولائی 2026 کو ریاستی سطح پر جاری حکم کے تحت پان مسالا، خوشبودار تمباکو، خوشبودار سپاری، گٹکا اور اس نوعیت کی دیگر ممنوعہ مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ایف ڈی اے کا بنیادی اعتراض وِمل برانڈ کی تشہیر سے متعلق ہے۔ محکمہ کے مطابق ابتدائی جانچ میں یہ تاثر سامنے آیا کہ وِمل الائچی کے نام سے نشر ہونے والا اشتہار صرف الائچی یا ماؤتھ فریشنر کی تشہیر تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے ذریعے ایسے برانڈ کی شناخت اور تشہیری پہچان کو بھی فروغ مل سکتا ہے جو پان مسالا سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔
محکمہ نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا سے متعلق ایسے اشتہارات قابل قبول نہیں جو صارفین کو گمراہ کریں یا قانون اور اس کے تحت بنائے گئے ضوابط کی خلاف ورزی کا سبب بنیں۔ ایف ڈی اے کے مطابق اشتہار کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ اسی قانونی پس منظر میں لیا جا رہا ہے۔نوٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر کسی ممنوعہ مصنوعات سے وابستہ برانڈ کو کسی دوسری بظاہر جائز چیز کے نام سے مسلسل تشہیر ملتی رہے تو صارفین، خصوصاً نوجوان، برانڈ کو ممنوعہ مصنوعات کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ اس طرح کی تشہیر کو عام طور پر بالواسطہ یا متبادل تشہیر کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف موجودہ کارروائی تک محدود نہیں ہے۔ وِمل جیسے برانڈز کی جانب سے الائچی یا ماؤتھ فریشنر کے نام سے تشہیر کا معاملہ ماضی میں بھی عوامی صحت اور اشتہاری ضوابط کے حوالے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معروف فلمی ستاروں کی مقبولیت کے باعث ان کے اشتہارات کا اثر عام اشتہارات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
مہاراشٹر میں ممنوعہ تمباکو اور پان مسالا مصنوعات کے خلاف ایف ڈی اے کی کارروائی بھی حالیہ عرصے میں تیز ہوئی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق محکمہ نے گٹکا اور ممنوعہ پان مسالا کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں اور مختلف مقامات سے ممنوعہ اشیا ضبط کی گئی ہیں۔ایف ڈی اے کی جانب سے جاری نوٹس کا مقصد فی الحال متعلقہ افراد سے وضاحت طلب کرنا ہے۔ یعنی نوٹس ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ تینوں اداکاروں کے خلاف جرم ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے اور یہ وضاحت دینے کا موقع دیا گیا ہے کہ اشتہار میں ان کی شرکت کو قانون کی خلاف ورزی کیوں نہ سمجھا جائے۔رپورٹس کے مطابق حکام نے تشہیری مواد سے متعلق بھی وضاحت طلب کی ہے اور سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر موجود تشہیری مواد کے حوالے سے کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کو جواب دینے کے لیے محدود مدت بھی دی گئی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے میں اصل سوال یہ ہوگا کہ وِمل الائچی کی تشہیر کو ایک الگ اور جائز مصنوعات کی تشہیر سمجھا جائے یا اسے کسی ممنوعہ مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کا فیصلہ اشتہار کے مواد، برانڈ کی شناخت، استعمال ہونے والی علامتوں اور مجموعی تشہیری انداز سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ایف ڈی اے کی اس کارروائی نے ایک بار پھر مشہور شخصیات کے اشتہارات میں کردار اور ان کی قانونی ذمہ داری پر بحث چھیڑ دی ہے۔ بالی ووڈ کے بڑے ستارے جب کسی برانڈ کی تشہیر کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت کی وجہ سے مصنوعات کو بڑے پیمانے پر عوامی شناخت ملتی ہے۔ اسی لیے ریگولیٹری ادارے یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں کسی ممنوعہ مصنوعات کی تشہیر کسی متبادل نام یا دوسری مصنوعات کے پردے میں تو نہیں کی جا رہی۔دوسری جانب مہاراشٹر حکومت پہلے ہی ممنوعہ تمباکو اور پان مسالا مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ سرکاری طور پر ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ صحت عامہ کو نقصان پہنچانے والی ممنوعہ غذائی مصنوعات کے خلاف ریاست میں کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اب سب کی نظریں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کے ممکنہ جوابات پر ہیں۔ ان کے جواب اور ایف ڈی اے کی مزید جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ معاملہ صرف وضاحت طلب کرنے تک محدود رہتا ہے یا محکمہ اس کے بعد مزید قانونی کارروائی بھی کرتا ہے۔اس پورے معاملے نے ایک اہم سوال بھی سامنے رکھا ہے کہ مشہور شخصیات کو کسی برانڈ کی تشہیر قبول کرنے سے پہلے اس کی مصنوعات اور اس سے وابستہ دیگر کاروباری سرگرمیوں کی مکمل جانچ کس حد تک کرنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اشتہارات میں شفافیت اور صارفین کے مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے برانڈز کے معاملے میں جن کا تعلق صحت کے لیے نقصان دہ یا ممنوعہ مصنوعات سے جوڑا جاتا ہو۔






