خبرنامہ

انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، 38 افراد جاں بحق

انڈونیشیا میں ہفتے کی صبح آنے والے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 7.7 شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں 38 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جب کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے میں پھنسے لوگوں کی تلاش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔انڈونیشیا کی موسمیاتی اور جیو فزکس ایجنسی کے مطابق زلزلہ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً پانچ بجے سے کچھ پہلے فلوریس جزیرے کے قریب آیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 15 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز جتنا زمین کی سطح کے قریب ہو، اس کے جھٹکوں کا اثر اتنا ہی زیادہ محسوس ہوتا ہے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مرکزی زلزلے کے بعد بھی علاقے میں کئی جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ان میں 6.1 شدت کا ایک طاقتور جھٹکا بھی شامل تھا۔ مسلسل جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندان اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔زلزلے سے کئی عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ موئمیرے بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے نیچے گر رہے ہیں۔ اس وقت متعدد مسافر ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے جانے والی کشتی پر سوار ہونے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق کشتی تک جانے والا راستہ بھی زلزلے کے باعث منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں کچھ لوگ سمندر میں جاگرے۔ واقعے کے بعد بندرگاہ پر موجود لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔مشرقی نوسا تنگارا صوبے کے گورنر ایمانوئل میلکیادیس لکا لینا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بعض افراد اس وقت ملبے کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے جب وہ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ زلزلے کے اچانک آنے کی وجہ سے انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا۔مشرقی نوسا تنگارا کے سِکا علاقے کے ساحلی گاؤں تالی بورا کے رہائشی آرنلڈ ویلیانٹو نے بتایا کہ شدید جھٹکوں سے ان کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوراً اٹھے اور اپنے بچے کے کمرے کی طرف گئے۔
ویلیانٹو کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد بہت سے لوگ گھبرا کر پہاڑی علاقوں کی طرف جانے لگے۔ کچھ افراد سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے، کیونکہ اسی دوران سمندر کا پانی بھی پیچھے ہٹتا ہوا دکھائی دیا۔ پانی کافی دیر تک معمول کی سطح سے نیچے رہا، جس سے لوگوں کی تشویش مزید بڑھ گئی اور وہ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔انہوں نے بتایا کہ وہ مقامی صحت مرکز کی طرف گئے، لیکن وہاں موجود لوگوں کو بھی پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا تھا۔زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش، زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی اور متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا امدادی اداروں کی ترجیح ہے۔ حکام کی جانب سے نقصان کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے، جبکہ مزید جھٹکوں کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر