خبرنامہ

دہلی کانفرنس میں ووٹر لسٹ اور SIR پر شدید سوالات

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’’آل انڈیا ووٹر شپ ڈیفنس کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف وکلا، سماجی کارکنان، دانشوروں اور ماہرینِ معیشت نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، ممتاز ماہرِ معاشیات ژاں دریژ اور معروف مصنفہ و دانشور نیویدیتا مینن خاص طور پر موجود تھیں۔ کانفرنس کا بنیادی موضوع ووٹر لسٹ میں کی جانے والی خصوصی نظرثانی (SIR) اور اس کے ممکنہ اثرات تھے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیویدیتا مینن نے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں اس وقت بے شمار سنگین غلطیاں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں جو زندہ اور موجود ہیں، جبکہ بعض جگہوں پر زندہ لوگوں کو مردہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ غلطیاں کسی انتظامی جلدبازی کا نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ طور پر ایک مخصوص رفتار کے ساتھ SIR کرائی جا رہی ہے تاکہ یہی خامیاں پیدا ہوں۔ نیویدیتا مینن نے مزید کہا کہ اس پورے عمل کے پیچھے ایک سیاسی مقصد پوشیدہ ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ موجودہ حکومت طویل عرصے، بلکہ آئندہ سو برس تک اقتدار میں برقرار رہے۔
معروف ماہرِ معاشیات ژاں دریژ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر واقعی یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں ہیں تو سب سے پہلا قدم مردم شماری ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مردم شماری کے ذریعے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کسی گاؤں یا علاقے میں کس عمر کے کتنے افراد رہائش پذیر ہیں۔ اس اعداد و شمار کو ووٹر لسٹ کے ساتھ ملا کر جانچ کی جا سکتی ہے، جس سے شفافیت پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ منطقی طریقہ موجود ہے تو پھر SIR کو اتنی عجلت میں کیوں انجام دیا جا رہا ہے۔یوگیندر یادو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ SIR کو ووٹر لسٹ کی اصلاحی کارروائی کہنا درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق درحقیقت خالی کاغذ پر نئی ووٹر فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ماضی کی کسی بھی نظرثانی سے مختلف ہے۔ یوگیندر یادو نے 2002–03 کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ووٹر لسٹ میں شامل افراد کو دوبارہ فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ صرف نئے ووٹر یا پتہ تبدیل کرنے والوں کو ہی فارم دینا پڑتا تھا۔ لیکن اب ووٹر لسٹ میں برقرار رہنے کے لیے بھی فارم بھرنا لازمی بنا دیا گیا ہے، جو جمہوری حقوق کے لیے ایک تشویشناک رجحان ہے۔
کانفرنس میں شریک دیگر مقررین نے بھی ووٹر لسٹ کی شفافیت، جمہوری اقدار اور شہری حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ اس پورے عمل کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی شہری کا حقِ رائے دہی متاثر نہ ہو۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر