خبرنامہ

سعودی آرامکو ہیلی کاپٹر حادثہ، راس تنورہ میں 14 افراد جاں بحق

سعودی عرب کی قومی آئل کمپنی سعودی آرامکو کو اتوار کے روز اس وقت بڑا صدمہ پہنچا جب کمپنی کا ایک ہیلی کاپٹر مشرقی ساحلی شہر راس تنورہ کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 14 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سعودی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر راس تنورہ کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثہ فنی خرابی، خراب موسم یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں اور مکمل رپورٹ آنے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔
سرکاری بیان کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد سعودی شہری تھے۔ وزارتِ توانائی نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات ہر پہلو سے کی جائیں گی تاکہ حادثے کے ذمہ دار عوامل کا تعین کیا جا سکے۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی توانائی کی سلامتی اور خطے کی کشیدہ صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس حادثے کو کسی سکیورٹی خطرے سے نہیں جوڑا گیا، تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
راس تنورہ سعودی عرب کا ایک نہایت اہم توانائی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سعودی آرامکو کی بڑی ریفائنری اور دنیا کے نمایاں خام تیل برآمدی ٹرمینلز میں سے ایک واقع ہے۔ چند روز قبل ہی یہاں خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی گئی تھی، جو کئی ماہ تک معطل رہی تھی۔ فی الحال حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حادثے سے کمپنی کی تیل پیداوار یا برآمدی سرگرمیوں پر کوئی اثر پڑا ہے یا نہیں۔سعودی آرامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل و گیس کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور مکمل طور پر سعودی حکومت کی ملکیت ہے۔ کمپنی کی بنیاد 1933ء میں رکھی گئی جبکہ 1980ء میں اس کا مکمل کنٹرول سعودی حکومت کے پاس آ گیا۔ اس کا مرکزی دفتر دھہران میں قائم ہے اور کمپنی دنیا کے بڑے تیل ذخائر سے خام تیل نکالنے، ریفائننگ، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور قدرتی گیس کے شعبوں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی آرامکو کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل پیدا کرتی ہے۔ 2019ء میں کمپنی نے تاریخ کا سب سے بڑا ابتدائی عوامی شیئرز اجرا (آئی پی او) متعارف کرایا تھا۔ حالیہ برسوں میں کمپنی روایتی توانائی کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈروجن اور کاربن کیپچر جیسی جدید ٹیکنالوجیز میں بھی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر