خبرنامہ

نئی دیہی روزگار اسکیم پر اپوزیشن کے سخت سوالات

مرکزی حکومت نے یکم جولائی سے ملک بھر میں نئی دیہی روزگار اسکیم کے تحت یومیہ اجرت کی نئی شرحیں نافذ کر دی ہیں۔ حکومت کے مطابق اب کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مقررہ یومیہ مزدوری 300 روپے سے کم نہیں ہوگی۔ نئی ہدایات کے بعد ملک کی تمام 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مزدوری کی شرحوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک بھر میں دی جانے والی اوسط یومیہ اجرت 298.8 روپے سے بڑھ کر 327.4 روپے تک پہنچ گئی ہے، یعنی مجموعی طور پر مزدوری میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ریاستوں میں مقامی حالات کے مطابق اجرت کی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔
حکومت کے مطابق اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، آسام، اروناچل پردیش اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں مزدوری میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں یومیہ اجرت میں تقریباً 15 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔نئی شرحوں کے مطابق ہریانہ میں یومیہ مزدوری 409 روپے، گوا میں 406 روپے، کیرالہ میں 401 روپے جبکہ سکم کے بلند پہاڑی علاقوں کی گرام پنچایتوں میں 450 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کرناٹک، پنجاب اور دیگر کئی ریاستوں میں بھی مزدوری کی شرح 360 روپے سے زیادہ رکھی گئی ہے۔
یہ نئی پالیسی گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ’وکست بھارت۔ جی رام جی‘ قانون کے تحت نافذ کی گئی ہے۔ اس قانون کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری ملنے کے بعد یکم جولائی 2026 سے لاگو کیا گیا۔یہ نئی اسکیم سابقہ منریگا (مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ) کی جگہ لے رہی ہے، جسے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2005 میں متعارف کرایا تھا۔ منریگا کے تحت دیہی علاقوں کے خاندانوں کو سال میں 100 دن روزگار کی ضمانت دی جاتی تھی۔
نئی اسکیم کے نفاذ کے بعد سیاسی بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نئے قانون میں مرکزی حکومت کو ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے، جب کہ ریاستی حکومتوں پر مالی بوجھ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے دیہی روزگار کے نظام پر اثر پڑے گا اور ریاستوں کے کردار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔حکومت کی جانب سے اس قانون کو دیہی معیشت مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اسے منریگا کے مقابلے میں ایک مختلف ماڈل قرار دیتے ہوئے اس کی شفافیت اور اختیارات کی تقسیم پر سوال اٹھا رہی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر