الیکشن کمیشن ملاقات پر مہوا موئترا برہم، باغیوں کو غدار قرار دیا
الیکشن کمیشن سے باغی ترنمول رہنماؤں کی ملاقات پر مہوا موئترا نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے انھیں غدار قرار دیا اور کہا کہ اصل ترنمول کانگریس ممتا بنرجی کی قیادت میں متحد ہے۔
ترنمول کانگریس کے بعض باغی اراکینِ اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی خبروں کے بعد پارٹی کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کون کس سے ملاقات کرتا ہے، اس پر ان کی جماعت کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی، لیکن جو لوگ خود کو اصل ترنمول کانگریس قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اپنی شناخت ثابت کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔مہوا موئترا نے کہا کہ جو جماعت واقعی عوام کی تائید اور مضبوط قیادت رکھتی ہو، اسے اپنی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کسی کے سامنے دعوے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کے مطابق جو لوگ بار بار خود کو ’اصل ترنمول کانگریس‘کہہ رہے ہیں، دراصل وہی اپنی سیاسی حیثیت کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ نقلی ہوتے ہیں، وہی سڑکوں پر آ کر بلند آواز میں خود کو اصلی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی اپنی جماعت کے ساتھ پوری مضبوطی کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممتا بنرجی کو اپنی جماعت کی شناخت ثابت کرنے کے لیے کہیں جانے یا کسی کے سامنے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ ممتا بنرجی کو الیکشن کمیشن کے پاس جا کر یہ کہنا پڑے کہ اصل ترنمول کانگریس ان کی ہے۔مہوا موئترا نے باغی رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پارٹی سے الگ ہو چکے ہیں اور جنہوں نے قیادت سے بغاوت کی ہے، وہی اس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق ایسے رہنما عوام کی ہمدردی حاصل کرنے اور اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پارٹی کے کارکن اور ووٹر اچھی طرح جانتے ہیں کہ ترنمول کانگریس کی اصل قیادت ممتا بنرجی کے پاس ہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترنمول کانگریس کے باغی اراکینِ اسمبلی کے رہنما رتبرت بنرجی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں پارٹی کی تنظیمی حیثیت اور اصل شناخت سے متعلق بعض معاملات پر گفتگو کی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جب کہ ترنمول کانگریس کی مرکزی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ جماعت متحد ہے اور اس کی قانونی و سیاسی قیادت بدستور ممتا بنرجی کے ہاتھ میں ہے۔ مسترد ہونے کے بعد اس کیس میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا مرحلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔






