لوکیشن ڈیٹا کا معاملہ، گوگل پر 4,300 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ
لوکیشن ڈیٹا کے استعمال میں ضابطوں کی خلاف ورزی پر آئرلینڈ نے گوگل کو 4,300 کروڑ روپے جرمانہ کیا، کمپنی نے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا دعویٰ کیا۔
یورپی ملک آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن (ڈی پی سی) نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر صارفین کے لوکیشن ڈیٹا کے استعمال سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں 40 کروڑ 30 لاکھ یورو، یعنی تقریباً 4,300 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ آئرش ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے بڑے جرمانوں میں سے ایک ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات تقریباً چھ سال قبل شروع ہوئی تھیں، جب یورپ کی متعدد صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے گوگل کے خلاف شکایات درج کرائی تھیں۔ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ تحقیقات کے دوران گوگل کے ڈیٹا استعمال کرنے کے طریقۂ کار میں قانونی تقاضوں، شفافیت اور منصفانہ عمل سے متعلق خامیاں سامنے آئیں۔ کمیشن کے مطابق کمپنی نے صارفین کی لوکیشن سے متعلق معلومات کو ایسے انداز میں استعمال کیا، جو جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
کن سروسز کے استعمال کی جانچ ہوئی؟
یہ تحقیقات گوگل کی تین اہم سروسز میں صارفین کے لوکیشن ڈیٹا کے استعمال سے متعلق تھیں۔ ان میں ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی، لوکیشن ہسٹری اور لوکیشن ایکیوریسی شامل ہیں۔ تحقیق کے دائرے میں 25 مئی 2018 سے 4 فروری 2020 تک کے عرصے میں ڈیٹا کے استعمال کو رکھا گیا تھا۔لوکیشن ڈیٹا سے مراد ایسی معلومات ہیں، جن کی مدد سے کسی شخص کے مقام یا اس کی نقل و حرکت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس نوعیت کا ڈیٹا کسی فرد کی نجی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ڈی پی سی کے ڈپٹی کمشنر گراہم ڈوئل نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی شخص کے مقام سے متعلق معلومات اس کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرسکتی ہیں۔ ان میں بعض ایسی تفصیلات بھی شامل ہوسکتی ہیں، جنہیں فرد اپنی نجی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے۔
جی ڈی پی آر کی خلاف ورزی کا معاملہ
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے ڈیٹا استعمال کرنے کے بعض طریقے یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ قانون 25 مئی 2018 کو نافذ ہوا تھا اور یورپی اقتصادی علاقے میں افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قواعد متعین کرتا ہے۔گراہم ڈوئل کے مطابق اس قانون کے تحت ذاتی معلومات کا استعمال قانونی، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کیا جانا ضروری ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کی نجی معلومات کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کے ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے واضح اصول قائم کرنا ہے۔
گوگل کا مؤقف
گوگل نے جرمانے کے معاملے پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی کمپنی کی سابقہ پالیسیوں سے متعلق ہے، جن میں بعد کے برسوں میں تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ کمپنی کے مطابق 2019 کے بعد سے اس نے اپنے طریقۂ کار کو بہتر بنایا اور صارفین کے لیے ایسے ٹولز متعارف کرائے، جن کی مدد سے لوکیشن ڈیٹا کو کنٹرول کرنا آسان ہوا ہے۔کمپنی نے مزید کہا کہ اس نے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں خودکار ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کی سہولت بھی شامل ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے اکاؤنٹ میں معلومات کو ہر تین، 18 یا 36 ماہ بعد خودکار طور پر حذف کرنے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔گوگل کے مطابق صارفین کو ذاتی نوعیت کے اشتہارات بند کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے لوکیشن ڈیٹا کے استعمال اور اکاؤنٹ کی ترتیبات سے متعلق معلومات کو زیادہ واضح اور ایک جگہ دستیاب کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔






