دہلی ایئرپورٹ پرسی جے پی ابھیجت دیپکے اور تین رہنما حراست میں
سی جے پی کا دعویٰ، دہلی ایئرپورٹ پر تین رہنما حراست میں، پارٹی کا سخت احتجاج، فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ۔
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تین رہنماؤں، ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشو توش رانکا کو دہلی پولیس نے ہفتے کے روز دہلی ایئرپورٹ پر طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا۔ پارٹی نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے تینوں رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، تینوں رہنما ممبئی سے پرواز کے ذریعے دہلی پہنچے تھے۔ اسی دوران پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے سوشل میڈیا پر براہ راست نشر ہونے والی ویڈیو میں نظر آئے، جس میں انہوں نے اپنی حراست سے متعلق صورت حال بیان کی۔سی جے پی نے دہلی پولیس کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اس طرح کی کارروائی شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو متاثر کرتی ہے۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ تینوں رہنماؤں کو حراست میں لیا جانا قابل اعتراض ہے اور انہیں بلا تاخیر رہا کیا جانا چاہیے۔
حراست کے دوران ابھیجیت دیپکے نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ پولیس کارروائی سے خوف زدہ نہیں ہیں اور گرفتاری کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کارروائی کو آمرانہ طرز عمل قرار دیا۔ تاہم، اس معاملے میں پولیس کا باضابطہ مؤقف اور حراست کی قانونی وجوہات واضح ہونا ابھی باقی ہے۔رپورٹ کے مطابق، جب پولیس اہلکار تینوں رہنماؤں کو تحویل میں لینے کے لیے پہنچے تو وہاں خاتون پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر ابھیجیت دیپکے اور ان کے ساتھیوں نے مطالبہ کیا کہ کارروائی کے لیے مرد پولیس اہلکاروں کو بھیجا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یوٹیوبر دھرو راٹھی اور سی جے پی کی شعبۂ قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد پارٹی کی جانب سے پولیس کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔فی الحال تینوں رہنماؤں کی حراست سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔ پولیس کی جانب سے باضابطہ وضاحت کے بعد ہی کارروائی کی وجوہات اور قانونی حیثیت کے بارے میں صورت حال پوری طرح واضح ہوسکے گی۔






