حجاب تنازع پر التجا مفتی نے نتیش کمار کے خلاف شکایت درج کرائی
التجا مفتی نے مسلم خاتون کا نقاب ہٹانے کے الزام میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف شکایت درج کرائی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور سیاسی و سماجی معاملات پر سرگرم آواز رکھنے والی التجا مفتی نے حال ہی میں حجاب سے متعلق ایک معاملے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ اس شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی ہٹا کر اس کی عزت و وقار کو مجروح کیا گیا۔التجا مفتی نے اس سلسلے میں درج کرائی گئی شکایت کی ایک نقل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر بھی شیئر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ خواتین بالخصوص مسلم خواتین کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایک ہفتہ قبل بہار میں ایک سرکاری پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک نوجوان مسلم خاتون ڈاکٹر کو تقرری نامہ دیتے وقت سب کے سامنے ان کا نقاب ہٹا دیا، جو سراسر نامناسب اور قابلِ اعتراض عمل ہے۔
التجا مفتی نے لکھا کہ اس واقعے نے کئی لوگوں کو صدمے، خوف اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس واقعے کے وقت اسٹیج پر موجود افراد جن میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی شامل تھے، اس حرکت پر ہنستے نظر آئے۔ ان کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ سمیت کسی نے بھی اس اقدام کو روکنے یا اس پر اعتراض کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک نوجوان مسلم خاتون ہونے کے ناطے وہ اس بات پر فکرمند ہیں کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اور برسرِ اقتدار حلقے اس واقعے کا دفاع کر رہے ہیں، جو خواتین کے وقار اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک مسلم خاتون آیوش ڈاکٹر کو تقرری نامہ دیتے ہوئے ان کے چہرے سے نقاب ہٹا رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری دیپک کمار کو ہنستے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس معاملے نے ملک بھر میں خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی اور سیاسی آداب سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔





