ڈونالڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم تاریخی ملاقات شروع
ڈونالڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں تجارت، ٹیکنالوجی، ایران اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ دو طرفہ ملاقات کر رہے ہیں۔ ملاقات شروع ہونے سے پہلے دونوں لیڈروں نے افتتاحی کلمات ادا کئے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو عظیم لیڈر قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ جن پنگ کے ساتھ رہنا اعزاز کی بات ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا’’ہم نے دنیا کے ٹاپ ۳۰؍ لوگوں سے پوچھا۔ ان میں سے ہر ایک نے ہاں میں کہا اور میں ایسے لوگ نہیں چاہتا تھا جو وفد میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہوں۔ میں صرف سب سے اوپر والے چاہتا تھا اور وہ آج یہاں آپ اور چین کی عزت کے لیے موجود ہیں۔ وہ کاروبار کرنے کے خواہشمند ہیں اور یہ ہماری طرف سے مکمل طور پر باہمی ہوگا۔‘‘
سربراہی اجلاس کے آغاز پر امید کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا’’آپ کے ساتھ رہنا اعزاز کی بات ہے، آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے اور چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں، ہم نے مل کر کام کیا ہے، اور جب بھی مشکلات آئیں، ہم نے مل کر انہیں حل کیا ہے، ہمارا مستقبل بہت اچھا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے کہا’’میں یہ سب سے کہتا ہوں۔ آپ ایک عظیم لیڈر ہیں۔ بعض اوقات لوگ میرا یہ کہنا پسند نہیں کرتے، لیکن میں بہرحال یہ کہتا ہوں کیونکہ یہ سچ ہے۔’’امریکی صدر نے کہا’’میں واقعی ہماری بات چیت کا منتظر ہوں۔ یہ ایک بڑی بات چیت ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ شاید اب تک کی سب سے بڑی سربراہی ملاقات ہے۔ انہیں ایسا کچھ یاد نہیں ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ میں لوگ کسی اور چیز کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ اور شی جن پنگ اپنے وفود کے ساتھ اس دو طرفہ ملاقات میں ٹیکنالوجی، تجارت، آبنائے ہرمز اور ایران جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔امریکی صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ چین کے عظیم ہال آف دی پیپل میں اپنے وفود کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کر رہے ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے گریٹ ہال میں صدر ٹرمپ کا استقبال کیا۔ امریکی صدر کے استقبال کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں فوجیوں کی جانب سے کوریوگرافی فوجی شو بھی شامل تھا۔





