راگھو چڈھا کا بڑا فیصلہ، آپ چھوڑ کر بی جے پی شامل
راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت، دیگر چھ ارکان بھی مستعفی ہوگئے۔
بھارت میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں اپنے فیصلے کی وجوہات تفصیل کے ساتھ بیان کیں۔راگھو چڈھا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور سیاست میں آنے سے پہلے ان کے پاس ایک مضبوط اور کامیاب کیریئر موجود تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سیاست کا رخ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس جماعت کو انہوں نے تقریباً پندرہ برس تک اپنی محنت، وقت اور صلاحیتوں سے مضبوط بنایا، اسی جماعت میں اب انہیں مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر ان کی آواز کو دبایا جا رہا تھا اور انہیں پارلیمنٹ میں کھل کر اظہارِ خیال کرنے سے روکا جاتا تھا۔ ان کے مطابق، پارٹی کی قیادت اب چند مخصوص افراد تک محدود ہو گئی ہے، جو قومی مفاد کے بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
راگھو چڈھا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ان کے سامنے تین راستے موجود تھے۔ پہلا یہ کہ وہ سیاست کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیں، دوسرا یہ کہ وہ پارٹی کے اندر رہ کر اصلاح کی کوشش کریں، اور تیسرا یہ کہ وہ اپنی توانائی اور تجربے کو کسی اور سیاسی پلیٹ فارم پر استعمال کریں۔ ان کے بقول انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کیا تاکہ وہ مثبت سیاست کے ذریعے عوام کی خدمت جاری رکھ سکیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس فیصلے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ مزید چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی پارٹی چھوڑ دی ہے۔ اس اجتماعی اقدام کے بعد ایوانِ بالا میں عام آدمی پارٹی کی نمائندگی کم ہو کر صرف چند ارکان تک محدود رہ گئی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارتی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔





