خبرنامہ

وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ، ٹرمپ کا سیکیورٹی پر بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ایک اہم عشائیہ تقریب کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکیورٹی صورت حال پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تقریب سے قبل ان کی ٹیم کو کسی ممکنہ خطرے یا حملے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا انہیں پہلے سے کسی قسم کے خدشات یا وارننگز موصول ہوئی تھیں، جس پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایسی کوئی معلومات ان کے پاس نہیں تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حملہ آور کے ارادوں کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں، تاہم بظاہر وہ شخص “انتہائی خطرناک” دکھائی دے رہا تھا۔
صدر کے مطابق مشتبہ حملہ آور تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے اچانک دوڑتا ہوا آیا، جس پر موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہو گئے اور انہوں نے اپنے ہتھیار نکال لیے۔ اس بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور کو مرکزی مقام تک پہنچنے سے روک لیا گیا۔دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیلیفورنیا میں واقع مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔
جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ ان پر ہونے والی مبینہ قاتلانہ کوششوں کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے تاریخی تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکثر ایسے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو معاشرے یا سیاست میں نمایاں اثر رکھتے ہوں۔ اس موقع پر انہوں نے سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کا ذکر بھی کیا، جنہیں ان کے دورِ صدارت میں قتل کر دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں ٹرمپ پر دو مرتبہ جان لیوا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ حکام نے تاحال اس تازہ واقعے میں ملوث شخص کے اصل مقصد کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا۔
مزید برآں جب ان سے جولائی 2024 میں پنسلوانیا کے علاقے بٹلر میں ہونے والے ایک سابقہ واقعے سے موازنہ کرنے کو کہا گیا، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان واقعات سے خوفزدہ ہو کر نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق موجودہ تقریب میں سیکیورٹی انتظامات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بٹلر کے واقعے میں ایک ماہر نشانہ باز (اسنائپر) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا تھا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر