حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ
حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا، ایران کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں کشیدگی بڑھی، مزید حملوں کی دھمکی دی گئی۔
یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملہ کیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یمن سے داغی گئی ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جس سے ممکنہ نقصان کو ٹال دیا گیا۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ پہلا موقع ہے کہ حوثی باغیوں نے براہِ راست اسرائیل پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف محاذوں پر تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں پر ہونے والی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔ ان کے مطابق انھوں نے اسرائیل کے حساس فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جن کا مقصد اسرائیلی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانا تھا۔حوثیوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک خطے میں جاری جارحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ خود کو ایک بڑے علاقائی محاذ کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنے اتحادیوں کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
یمن میں حوثی گروہ کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ اگر کوئی اور ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو وہ براہِ راست فوجی مداخلت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جنگی وسائل مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورت حال میں فوری ردعمل دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحیرہ احمر کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، یا ایران کے خلاف کارروائیاں مزید بڑھیں، تو حوثی گروہ اس میں بھرپور طریقے سے شامل ہو جائے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات اور حالیہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔





