جامعہ میں طلبہ کا احتجاج تیز، انتظامیہ اور مظاہرین میں دھکم دھکا
جامعہ میں 13 روز سے طلبہ یونین انتخابات کا مطالبہ جاری، انتظامیہ اور مظاہرین میں دھکم دھکا، انتخابات کا اعلان تاحال باقی۔
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی تشکیل اور انتخابات کرانے کے مطالبے پر جاری احتجاج نے ہفتے کے روز اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا، جب یونیورسٹی کے رجسٹرار، اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان مظاہرین سے بات چیت کے لیے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ انتظامیہ نے طلبہ سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سکیورٹی گارڈوں اور طلبہ کے درمیان دھکم پیل کی صورت حال پیدا ہو گئی۔اطلاعات کے مطابق، احتجاجی مقام پر طلبہ نے دھرنے کے لیے ترپالیں لگا رکھی تھیں۔ یونیورسٹی کے سکیورٹی اہلکاروں نے ان ترپالوں کو ہٹانے کی کوشش کی، جب کہ طلبہ نے احتجاجی مقام کو برقرار رکھنے کے لیے مزاحمت کی۔ اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی بڑھی۔ واقعے کے بعد احتجاج میں شریک طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی یا تشکیل اور اس کے انتخابات کرانے کا مطالبہ گزشتہ 13 دنوں سے کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح تاریخ کا اعلان کرے، تاکہ طلبہ کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔ اسی مطالبے کے تحت بعض طلبہ بھوک ہڑتال بھی کر رہے ہیں۔یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ سے بات کرنے کے لیے احتجاجی مقام پر گئے تھے۔ ان کے مطابق، طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق مطالبے پر انتظامیہ کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ڈرافٹ کمیٹی پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔
رجسٹرار نے بتایا کہ گفتگو کے دوران طلبہ نے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مقررہ مدت کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ کمیٹی جتنی جلدی مسودہ تیار کرے گی، انتخابات کرانے کا عمل بھی اتنی ہی جلدی آگے بڑھایا جا سکے گا۔ رجسٹرار کے مطابق، طلبہ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ نے بعد میں انتخابات کی تاریخ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر ان کا جواب تھا کہ چونکہ طلبہ نے اپنے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کرکے آئین کا مسودہ تیار کرنے کی تجویز پیش کی ہے، اس لیے مسودہ موصول ہونے کے بعد انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔
رجسٹرار نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض بیرونی رہنما احتجاج کرنے والے طلبہ کو مشتعل کر رہے ہیں۔ تاہم، طلبہ کی جانب سے احتجاج کے جاری رہنے اور دھرنے کے مقام پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایل ایل ایم کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم شکیل نے گفتگو میں انتظامیہ کے رویے پر اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ احتجاجی مقام پر پہنچی اور وہاں توڑ پھوڑ کی، نیز طلبہ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔
شکیل کے مطابق، واقعے کے باوجود اس وقت صورت حال معمول پر تھی۔ احتجاج کے پس منظر میں طلبہ یونین کے انتخابات کا مطالبہ مرکزی اہمیت رکھتا ہے، جب کہ انتظامیہ کی جانب سے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی گئی ہے۔ فی الحال طلبہ انتخابات کی تاریخ کے واضح اعلان کے منتظر ہیں۔






