بحرانوں کا موسم
ودود ساجد
(ایڈیٹر روزنامہ انقلاب)
سپریم کورٹ میں جسٹس ’دیپانکر دتہ‘ اور جسٹس ’شیل ناگو‘ کی بنچ نے سنبھل کے نوجوان ملا افروز پر عاید انتہائی سخت قانون نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کو کالعدم قرار دے کر اور یوپی حکومت پر دس لاکھ روپیہ کا جرمانہ عاید کرکے یوپی حکومت اور اس کے توسط سے مرکزی حکومت کو ایک اور بحران سے دوچار کردیا ہے۔ جرمانہ کی یہ رقم ایک مہینہ کے اندر اندر ملا افروز کو دی جائے گی۔
پولیس نے سنبھل کی جامع مسجد کے قضیہ میں ملا افروز کو 2024 میں ہونے والے تشدد کا ماسٹر مائنڈ (کلیدی ملزم) قرار دے کر تشدد کے 54 دنوں کے بعد 17 جنوری 2025 کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرلیا تھا۔ تقریباً نو مہینے بعد نو ستمبر 2025 کو جیسے ہی الہ آباد ہائی کورٹ نے ملا افروز کو ضمانت دی تو حکومت نے ایک مہینہ چار دن بعد 13 اکتوبر 2025 کو اس پر ’این ایس اے‘ عاید کرکے پھر گرفتار کرلیا۔ اس گرفتاری کو ’احتیاطی گرفتاری‘ قرار دیا گیا۔
لطف کی بات یہ ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی حکومت کے اس فیصلہ کی توثیق کردی اور ملا افروز کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے تقریباً ایک سال کے بعد 29 ستمبر 2026 کو این ایس اےکے نفاذ اور اس احتیاطی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر ملا افروز کو نہ صرف فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا بلکہ یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپیہ کا جرمانہ بھی عاید کردیا۔ یعنی حکومت نے ایک مسلم نوجوان کو 19 مہینوں تک غیر قانونی حراست میں رکھا۔
فی الواقع مذکورہ فیصلہ نے یوپی اور مرکز کے سامنے ایک عجیب و غریب صورتحال کھڑی کردی ہے۔ یہ ستمبر کی ہی تو بات ہے جب سپریم کورٹ کی ہی ایک دوسری بنچ نے یوپی حکومت کو الہ آباد ہائی کورٹ کے پانچ لاکھ کے جرمانہ کی زد سے بچالیا تھا۔ لیکن اب سپریم کورٹ نے ہی یوپی حکومت پر اس سے دوگنا جرمانہ عاید کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اب اس فیصلہ پر کون اسٹے دے گا؟
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اسدعلوی کا خیال ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف نظرثانی پٹیشن کی گنجائش بہت کم ہے۔ حکومت صرف فیصلہ کے اندر کسی بے ضابطگی کی نشاندہی کرسکتی ہے جس پر جسٹس دتہ کی وہی بنچ اپنے چیمبر میں غور کرسکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ایسی کوئی پٹیشن دائر بھی کی گئی تو اس کے مسترد ہونے کے سو فیصد امکانات ہیں۔ اسی طرح ’کیوریٹو‘ پٹیشن کے امکانات بھی بہت محدود ہیں جس پر پانچ ججوں کی بنچ ابتدائی سماعت کرکے یہ طے کرتی ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف مزید سماعت کی جانی چاہئے یا نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسٹس دیپانکر دتہ کی بنچ نے یوپی حکومت اور پولیس کے خلاف جو فیصلہ دیا ہے دستور کی دفعہ141 کے تحت اس کی حیثیت ’لاآف دی لینڈ‘ یعنی ملک کے قانون کی ہوگئی ہے۔ پیراگراف 41 میں عدالت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ’احتیاطی گرفتاری‘ کے سلسلہ میں عدالتی مداخلت کی گنجائش بہت محدود ہے لیکن اس کے باوجود اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں اس گرفتاری کے جواز کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے پیراگراف 57 سے 66 تک سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں تفصیل سے جائزہ لے کر ’احتیاطی گرفتاری‘ اور ’تعزیری گرفتاری‘ کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔
سنبھل کے نوجوان ملا افروز پر عاید این ایس اے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے 100 سے زائد کلیدی ‘ ذیلی اور حوالہ جاتی پیراگراف پر مشتمل اپنے 41 صفحات کے فیصلہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ مظلوم طبقات پر یوپی حکومت کے ’مظالم‘ کی ’ضخیم کتاب‘ کا ’پیش لفظ’ ہے۔ عدالت نے لکھا کہ افروز پر این ایس اے پولیس حراست میں اس کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر عاید کیا گیا تھا جبکہ پولیس حراست میں دئے گئے ملزم کے اقبالیہ بیان کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ احتیاطی گرفتاری اور این ایس اے کے نفاذ کیلئے قانون نے جو شرائط طے کی ہیں ان کا ادنی درجہ میں بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔
عدالت نے پیراگراف 29-30 کے تحت واضح کردیا کہ ملا افروز کے دعوے کے مطابق اس پر پولیس حراست کے دوران تشدد کیا گیا‘ اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی اور اسی کے نتیجہ میں اس نے وہ اقبالیہ بیان دیا جس کی بنیاد پر این ایس اے لگایا گیا۔ عدالت نے صاف لکھا کہ حکومت کے جواب الجواب کا بھی ہم نے بغور مطالعہ کیا ہے جس میں مدعی کے الزامات کو مسترد نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ واضح ہے کہ مدعی نے اقبالیہ بیان رضاکارانہ طور پر نہیں دیا تھا۔ عدالت نے پیراگراف 41 سے 56 تک این ایس اے سے متعلق سپریم کورٹ کے ماضی کے متعدد فیصلوں کا تفصیلی حوالہ دے کر زیر بحث فیصلہ کا جواز بھی پیش کیا ہے۔
پچھلے ہفتہ کے کالم میں آپ نے پڑھ لیا ہوگا کہ سات ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن کی دو رکنی بنچ نے نوئیڈا ورکرس کے احتجاج کے سلسلہ میں ماخوذ نوجوان ریسرچ اسکالر آکرتی چودھری پر عاید این ایس اے کو کالعدم کردیا تھا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے خلاف بھی سخت تبصرے کئے تھے اور ان پر پانچ لاکھ روپیہ کا جرمانہ بھی عاید کردیا تھا۔ یہ رقم ان کی تنخواہ سے وضع کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور انتظامیہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ عدالت کے سخت تبصرے اور فیصلہ کو میدھاروپم کے ’سروس ریکارڈ‘ میں درج کیا جائے۔
میدھا روپم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی ہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف یوپی حکومت سپریم کورٹ پہنچی جہاں جسٹس ستیش شرما کی دو رکنی بنچ نے جسٹس اتل سری دھرن کے فیصلہ کے اس حصہ پر ’اسٹے‘ لگادیا جس کی زد میدھا روپم پر پڑ رہی تھی۔ یہ معاملہ ان کی بنچ کو اس کے باوجود بھیجا گیا کہ یہ موضوع ان کے روسٹر میں شامل ہی نہیں تھا اور 13 جولائی کے روسٹر کے مطابق وہ اس طرح کے معاملات کو سننے کے مجاز نہیں تھے۔ اس کیلئے دوسری چار بینچیں موجود تھیں۔
جسٹس شرما اُس دورکنی بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے الیکشن کمشنر کی تقرری کے نئے قانون کے خلاف سماعت کی تھی۔ یہ مقدمہ انہی کے اختلافی فیصلہ کی وجہ سے آئینی بنچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔ یعنی چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے درست طریقہ کار کا معاملہ برسوں کیلئے لٹک گیا۔ پھر یہ خبر بھی سامنے آگئی کہ جسٹس شرما کا بیٹا مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کا وکیل ہے۔ اس صورت میں تو الیکشن کمشنروں کی تقرری اور میدھا روپم کو راحت دینے کے فیصلے ہی مشکوک ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمشنروں کی تقرری والے مقدمہ میں جسٹس ستیش شرما کی موجودگی کے سبب اس فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کی دو عرضیاں چیف جسٹس کی عدالت میں دائر کی گئی ہیں۔
اس ملک کے دو بڑے آئینی ادارے (الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ) ملک میں پہلے سے جاری بحران سے ابھی نکلے نہیں ہیں- یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے کہ اب اترپردیش کی پولیس عدلیہ کی زد پر آگئی ہے۔ اب توخود الیکشن کمیشن بھی ایس آئی آر کے موضوع پر عدلیہ کی زد پر آنا شروع ہوگیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعہ یکطرفہ طور پر کئے گئے متعدد فیصلوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر ہوگئی ہے جس پر کل پانچ اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ یہ خبر تو آپ نے پڑھ ہی لی ہوگی کہ بامبے ہائی کورٹ نے بھی ایس آئی آر کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے کچھ سخت سوالات کئے ہیں اور گوا کے متاثرہ ووٹرس کے ذریعہ دائر عرضی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔
آئین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جس طرح متعصب اور جارح سیاست نے تسلط کرلیا ہے اس کی روشنی میں پولیس کی بدعملی سے حکومتیں بری الذمہ نہیں ہوسکتیں۔ یہ خبر بھی انتہائی اہم ہے کہ 30 ستمبر کو سپریم کورٹ کی ایک اور بنچ نے یوپی پولیس کی سخت سرزنش کرتے ہوئے اسے تحلیل کرنے تک کا انتباہ دیدیا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ بلند شہر میں ایک خاتون کو موٹر سائیکل سوار نے ہراساں کیا‘ متاثرہ نے راہ گیروں کی مدد سے کسی صورت اسے پولیس کے حوالہ بھی کردیا لیکن پولیس نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی۔ عدالت نے انتباہ دیا کہ ہم نہ صرف یوپی پولیس کو تحلیل کرسکتے ہیں بلکہ تمام معاملات کی تحقیقات سی بی آئی کو بھی سونپ سکتے ہیں۔ عدالت کا یہ انتباہ یوپی پولیس کے طرزعمل پر زوردار طمانچہ بھی ہے اور اس کے برے طرز عمل کا ثبوت بھی ہے۔
یوپی پولیس مستقل بحران کی زد میں ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اتل سری دھرن کی ہی بنچ نے دیوریا کے ایک معاملہ میں پولیس کے خلاف غیر قانونی حراست کے مقدمہ میں 65 ہزار روپیہ کا جرمانہ عاید کیا تھا۔ یہ رقم ایس ایچ او کی تنخواہ سے وضع کرنے کو کہا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی ہی ایک اور بنچ نے حال ہی میں ایک ملزم کے بھائی کو‘ جس کا جرم سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا‘ پولیس کے ذریعہ صبح سے شام تک تھانے میں روکے رکھنے کو غیر قانونی قرار دے کر یوپی حکومت پر 40 ہزار روپیہ کا جرمانہ عاید کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یوپی حکومت نے ان دو فیصلوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی؟ یا اس لئے نہیں کی کہ ان فیصلوں کی زد داروغہ اور چند معمولی پولیس اہلکاروں پر پڑ رہی ہے اور اس کی زد میں کوئی طاقتور خاتون ضلع مجسٹریٹ نہیں ہے؟ ایک اور دلچسپ واقعہ یہ ہوا ہے کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے دفتر نے ججوں اور ’ون نیشن – ون الیکشن‘ کے سلسلہ میں قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے درمیان مجوزہ ملاقات کو منسوخ کردیا ہے۔
فی الواقع یہ انتہائی معیوب بات ہوتی اگر سپریم کورٹ کے برسرکار ججوں اور مذکورہ کمیٹی کے درمیان میٹنگ ہوتی۔ ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ موجودہ چیف جسٹس نے ایک سے زائد حساس نوعیت کے مقدموں کی سماعت کے دوران کئی بار ناپسندیدہ اور غیر مطلوب تبصرے بھی خوب کئے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ متنازعہ ’ون نیشن- ون الیکشن‘ کے سلسلہ میں مجوزہ میٹنگ کو منسوخ کرکے بھی انہوں نے قابل تعریف کام کیا ہے۔
اس ہفتہ کے کالم کی آخری خبر یہ ہے کہ بنگال کے نندی گرام میں ضمنی انتخابات کے کانگریس امیدوار کو ہائی کورٹ سے حاصل ہونے والی ضمانت کے خلاف دائر عرضی کو چیف جسٹس نے سناہی نہیں۔ کانگریس کے اس امیدوار کو برسوں پرانے ایک مقدمہ میں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔ ملک کے دوسرے نمبر کے سب سے بڑے افسر قانون تشار مہتا نے عدالت سے بڑی منت سماجت کی لیکن کوئی تدبیر کارگر نہ ہوسکی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملہ کو پانچ اکتوبر کو سنیں گے اور ہم آپ کو یہ یقین دلاسکتے ہیں کہ ہم اس عرضی کو مسترد کردیں گے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پورا ملک اور خاص طور پر اس ملک کا نوجوان اس طرح کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک یہی کیا پوری دنیا ہمارے معاملات کو بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے واقعات نے ہمیں پہلے ہی دنیا کے سامنے شرمندہ کردیا ہے۔

(صحافی کی ایف بی وال سے)




