بابائے قوم : مہاتما گاندھی
وجاہت علی سندیلوی
کون ہوتا ہے حریف مئے مرد آفگن عشق
ہے لب ساقی پر صدا مکرر میرے بعد
گاندھی جی نے زندگی بھر ہمیں جینے کے طریقے سکھائے تھے، اپنی خوں چکاں موت سے انہوں نے ہمیں مرنے کا سلیقہ بھی بتا دیا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں ایسے مرنا چاہتا ہوں کہ قاتل کا خنجر میرے سینے میں ہو لیکن میرے ہونٹوں پر تبسم ہو اور میرے دل میں اس کی جانب سے کوئی نفرت نہ ہو۔ انہوں نے جیسا کہا تھا کر کے دکھا دیا۔ ناتھو رام کی گولیاں ان کے پیٹ اور سینے میں تھیں لیکن ان کے ہونٹوں پر تبسم تھا اور مرتے مرتے انہوں نے ہاتھ جوڑ کرنا تھو رام کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔ وہ زندگی ہی میں کیا کم بڑئے تھے۔ دنیا کے سب سے بڑے انسان کہے جاتے تھے لیکن موت نے ان کو اور بھی بڑا بنا دیا۔ جن بنیادی صداقتوں کی خاطر انہوں نے اپنے آپ کو تج دیا تھا اور عمر بھر انتھک خدمات اور قربانیاں کرتے رہے تھے، ان ہی کی خاطر بالآخر انہوں نے اپنی جان بھی دے دی۔ ان کی زندگی کا شاہکار افسانہ اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ کر بالکل ہی مکمل ہو گیا۔ بلکہ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایثار اور قربانی کے اس مجسمہ کو اگر اپنی سب سےآخری اور قیمتی قربانی نہ پیش کرنا پڑتی تو بات کچھ ادھوری سی رہ جاتی ، انسانیت کے محسن، امن و مساوات کے اپنے وقت کے سب سے بڑے علم بردار، ملک کی جنگ آزادی کے سپہ سالار اور قوم کے باپ کو بالآخر شہید ہونا تھا۔ گاندھی جی نے کراہتی ہوئی دکھی انسانیت کو جو پیغام دیا اس پر ان کے خون سے تصدیق کی مہر بھی لگ گئی ، وہ شہید اعظم ہو کر پہلے سے بھی زیادہ امر اور زندہ جاوید ہو گئے۔ انسان روز پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ کاروان انسانیت میں جو ہر لحظہ رواں اور دواں ہے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کوئی ہمدردی یا محبت نہیں ہوتی ، لیکن بلاخوف تردد کہا جاسکتا ہے کہ آج سے سیکڑوں سال بعد بھی گاندھی جی کا نام انتہائی عزت اور فخر کے ساتھ لیا جائے گا اور ان کو انسانیت کا حسن قرار دیتے ہوئے ان کے لیے خراج عقیدت میں بڑوں سے بڑوں کے سر بھی جھک جایا کریں گے۔
ہرگز نہ میرد آن که دلش زنده شد بعشق
ثبت است بر جریدهٔ عالم دوام ما
بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس وقت بھی صرف گاندھی جی کا نام ہی نام نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک جیتی جاگتی قوت ہوں گے اور لوگ ان کی روشن کی ہوئی مشعل سے روشنی حاصل کریں گے ۔ زندگی کی بنیادی صداقتیں مثلا سچائی ، محبت ، اخوت، امن اور ۔ آزادی وقت کے ساتھ ساتھ بدلا نہیں کرتیں۔ دنیا کو گاندھی جی کی ہمیشہ ضرورت رہے گی وہ صفحہ عالم پر ایک نقش دوام بن چکے ہیں ۔
صحیح معنوں میں گاندھی جی ہندوستانی تھے اور ہندوستان گاندھی جی کا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی عظمت، پاکیزگی اور اس کی تمام اچھی باتوں کا عطر اپنی ایک چھوٹی سی ہستی میں کھینچ لیا تھا اور پھر اس کی روح بن کر اس پر چھا گئے تھے۔ گاندھی جی کی گزشتہ تیس سال کی زندگی ایک فرد کی نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی ، ایک پوری قوم کی اور دنیا کے ایک وسیع براعظم کی تاریخ ہے۔ ہندوستان کے لیے گاندھی جی نہ صرف راستہ اور میر کار رواں تھے بلکہ خود ہی نشان منزل بھی تھے۔ کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ گاندھی جی ہندوستان میں اور ہندوستان گاندھی جی میں کس قدر رچ بس گیا تھا۔ گاندھی جی کانگریس اور ہندوستان ، عوام کے ذہنوں میں ایک ہی چیز کے مختلف نام تھے۔ گزشتہ نسل کے دیکھتے دیکھتے اور موجودہ نسل کے ہوش میں کروڑوں انسانوں کے اس ملک میں قوم کی ترقی اور بہبودی کے جتنے بھی سوتے پھوٹے ان سب کے چشمہ فیض گاندھی جی تھے۔
دنیا میں کئی لوگ قوم کے باپ کے لقب سے یاد کیے گئے ہیں لیکن اگر قوم کے باپ راشٹر پتا“ کا لقب کسی پر صیح معنوں میں پورا اتر تا اور زیب دیتا ہے تو وہ گاندھی جی تھے۔ قوم کو ان پر وہی بھروسہ، ان سے وہی محبت تھی جو ایک بیٹے کو باپ سے ہوتی ہے۔ ہر ملک اور قوم کی اولین ضرورت اس کی آزادی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں غیر ملکی حکومت کے خلاف بیسیوں صدی میں جتنی تحریکیں اٹھیں ان کے روح رواں اور کرتا دھرتا گاندھی جی ہی تھے۔
انوکھا ہتھیار
دنیا کے لیے گاندھی جی کی صرف یہ سیاسی زندگی ہی ایک عظیم الشان اور بے مثال کارنامہ ہوتی لیکن نہیں، یہ تو گاندھی جی کی حقیقی زندگی کا ایک بہت جزوی حصہ تھا۔ انہوں نے ملک کو آزاد کرایا اور ان کی طرح بہتوں نے اپنے اپنے ملکوں کو آزاد کرایا ہے لیکن انہوں نے کیسے آزاد کرایا ؟ ایک بالکل ہی انوکھے ہتھیار سے پتھر کا جواب پھول سے دے کر ! توپ اور بندوق سے نہیں، چالا کی اور دنیا سازی سے نہیں۔ وحشیانہ قوت کا جواب مسلح بغاوت سے نہیں ، لوہے سے لوہا کاٹ کر نہیں بلکہ ریشم سے لوہا کاٹ کر ستیہ سے اہنسا سے، ایثار سے ، قربانی سے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ سچائی خود ایک اتنی بڑی قوت ہے جسے کسی دوسری قوت کی امداد کی ضرورت ہی نہیں۔ ہندوستان کی آزادی کا ذمہ دار خودان کا کردار تھا اور انہوں نے پوری قوم میں ایک نیا کردار پیدا کر دیا۔ قوم کے آزادی کے مطالبہ کو انہوں نے صداقت اور قربانی کے سانچوں میں ڈھال کر ایک ایسا بے پناہ حربہ بنادیا جس کے سامنے ایٹم بم ، ٹینک، ہوائی جہاز غرض سب آلات حرب و ضرب محض بچوں کا کھیل بن کر رہ گئے ۔ دنیا کے سامنے یہ ایک بالکل نیا تجربہ لیکن صدفی صد کامیاب تجربہ تھا۔
گاندھی جی کا ستیہ اور اہنسا، محبت اور قربانی کا پیغام صرف ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا اور کل انسانیت کے لیے تھا۔ قتل و غارت گری، جنگ وجدال، جھوٹ و مکاری اور چھین جھپٹ سے مجروح اور کراہتی ہوئی دنیا میں وہ بنیادی صداقتوں کا ایک مرہم لے کر آئے تھے۔ ان سے بڑھ کر پامالوں اور مظلوموں کا کوئی ہمدرد نہیں تھا۔ ان کے دل میں انسانیت کا بے پناہ درد، خلوص نیت کی بے انتہا مٹھاس تھی۔ ان کا بے داغ کردار ان کے پیغام کا بہترین مظہر اور ترجمان تھا۔ اور ان کے کردار ہی نے ان کے لیے کروڑوں دلوں میں انتہائی قابل رشک اور انمٹ جگہ بنالی تھی ۔ گاندھی جی نے دنیا میں اور ہندوستان میں اپنے لیے جو مرتبہ حاصل کر لیا تھا اس کا اگر صحیح مظاہرہ دیکھنا ہو تو ان کا سوگ دنیا کے بڑے دارالخلافوں میں اور شہروں میں نہ دیکھئے بلکہ ہندوستان کے دیہاتوں میں جا کر دیکھئے۔ وہاں اس وقت کیسی مردنی چھائی ہوئی ہے اور وہاں کے کروڑوں مخلوق ان کے فراق میں کیسی کراہ رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مخلوق بڑے بڑے طوفانوں سے بھی غیر متاثر رہی تھی۔ آج سے نہیں صدیوں سے گاندھی جی کی موت کو وہ اپنی موت سمجھ رہی ہے۔ گاندھی جی نے اپنے کردار سے یقینا انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ تاریخ میں بہت شاذ و نادر ہی ایسی مثال ملتی ہے جب کسی انسان نے محض اپنے کردار سے اپنے ہم عصروں پر اتنا گہرا اور دیر پا اثر ڈالا ہو، ان کا کردار دلوں کی تسخیر کے لیے ایک جادو تھا۔
مافوق الفطرت نہیں
گاندھی جی کی زندگی ہمارے سامنے ایک کھلی ہوئی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے، اس میں کوئی چیز چھپانے یا چشم پوشی کی نہیں ہے، ہم ان کو اسی طرح جانتے ہیں جیسے خود اپنے آپ کو وہ ایک ایسا شفاف دریا ہے جس میں ہم پانی اور لہروں کے ساتھ دریا کی تہہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن صرف دیکھ سکنے اور پہنچ سکنے میں بڑا فرق ہے۔ کچھ لوگ گاندھی جی کی زندگی ہی میں ان کو دیوتا اور اوتار ماننے لگے تھے اور ان کی شہادت کے بعد ان کو پوجنے کا یہ جذ بہ شاید اور بھی ترقی کر جائے لیکن یہ غلطی اور حقیقت انحراف ہے۔ گاندھی جی انسان اور صرف انسان تھے اور یہی ان کی سب سے بڑی عظمت ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے بھی انسان اور مادی آلائشات سے کتنا اونچا اٹھ گئے تھے۔ گاندھی جی کی عظیم المرتبت شخصیت کی اصلی شان یہ نہیں تھی کہ وہ مافوق الفطرت تھے بلکہ یہ کہ وہ ہمیں میں سے تھے لیکن ہم سے کتنا مختلف تھے گاندھی جی غلطیاں بھی کرتے ، ان کے بعض معتقدات عقل اور دلیل سے سمجھ میں بھی نہیں آتے ، بعض اوقات ان کی حد سے بڑھی روحانیت آج کل کے عقل پرستی کے دور پر نا قابل برداشت سی بھی محسوس ہوتی، لیکن ان کی حقیقی بڑائی ان کا خلوص ان کی سچائی اور ان کی معصومیت تھی ، ان کی زندگی کا مقصد ستیہ اور اہنسا تھا۔ اور وہ اپنے اس مقصد سے کبھی نہیں بھٹکے وہ جب کسی اقتصادی مسئلہ پر یہ کہہ دیتے کہ میں اقتصادیات نہیں جانتا، یا سوشلزم کے متعلق اعتراف کر لیتے کہ میں اس کی ابجد سے بھی ناواقف ہوں یا بین اقوامی سیاست کے متعلق یہ کہہ بیٹھتے کہ میں اس کو کبھی کبھی جواہر لعل سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں ، تو اس سے ان کی بڑائی کم نہیں بلکہ اس سے اس میں اور بھی چار چاند لگ جاتے ۔ ان کی زندگی کے اقدار مادی زندگی کے اقدار سے بہت مختلف تھے۔ ان کا کردار خود ایک بنیادی صداقت بن کر رہ گیا تھا اور اس کے لیے چھوٹے چھوٹے وقتی مسئلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
مردانہ وار مقابله
ہندوستان کی تقسیم سے سارے ملک میں تعصب نفرت اور آگ و خون کا طوفان امڈپڑ رہا تھا۔ اس سے گاندھی جی کو نا قابل برداشت روحانی اذیت پہونچی تھی۔ اپنے خون جگر سے پہنچ کر ستیہ واہنسا کا جو شاندار درخت انہوں نے لگایا تھا اور اب آزادی کے بعد جب اس کے پھلنے اور پھولنے کے دن آئے تھے اس کے جس وقت پھول پتے ، ڈالیاں حتی کہ جڑیں انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے کٹتے دیکھیں تو وہ بے چین ہو گئے اور انگاروں پر لوٹنے لگے۔ ان کا ایسا انسان اس سانحہ عظیم کو ایک بے بس تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ باوجود پیرانہ سالی مردانہ وار اس کے مقابلے کے لیے کود پڑے، ان کا جسم بوڑھا اور کمزور تھا۔ لیکن ان کا عزم اور قوت ارادی بالکل جوان اور تازہ دم تھی۔ ہمیشہ کی طرح پھر وہ اندھیری رات میں بھٹکی ہوئی قوم کوسیدھے راستے پر واپس لانے کے لیے تل گئے ۔ وہ نواکھالی میں پا پیادہ دیہات دیہات مارے مارے پھرے اور بالآخر وہاں امن قائم کرا کر چھوڑا، کلکتہ ایک گرداب میں پھنس چکا تھا۔ انہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر اس کو پار لگایا۔ پھر وہ تیزی کے ساتھ بہار پہنچے اور وہاں کے نیم جانوں کو موت سے بچایا۔ اس کے بعد جب دہلی میں قیامت برپا ہوئی تو وہ دہلی پہنچے اور اپنی بساط پر وہاں کے لیے ہوئے کاروان کی مرہم پٹی اور پاسبانی کرنے لگے ۔ وہ کہتے تھے کہ دہلی کی حالت سدھر جائے تو وہ پھر پنجاب اور پاکستان جانے کا قصد کریں گے لیکن دہلی کی خاک دامن گیر نے انہیں اتنی فرصت ہی نہیں دی ، اور قید حیات اور بند غم سے نجات دلا کر انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی گود میں سلالیا۔ دہلی میں بڑے بڑے شہنشاہ بھی اپنے عالی شان مقبروں میں سورہے ہیں اور وہیں آج اس ” ننگے فقیر ‘‘کی خاک کے بھی ذرے اڑ رہے ہیں، لیکن ہے کسی میں تاب جوان ذروں کا مقابلہ کر سکے؟ اس خاک کے ذرے تاریخ عالم کے آسمان پر ہمیشہ ہمیشہ کہکشاں بن کر چمکتے رہیں گے اور لاکھوں کروڑوں ، گم کردہ راہ ان کی بدولت اخوت اور محبت کی منزل کا سراغ پالیں گے۔ بے رحم قاتل شاید یہ نہیں سمجھتا تھا کہ جن ذروں کو وہ خاک میں ملا کرفنا کرنا چاہتا ہے وہ خاک میں مل کر اور بھی انمول ہیرے بن جائیں گے۔
برستے ہیں اگر سنگ حوادث شوق سے برسیں
کہ دل وہ شیشہ ہے جو ٹوٹ کر پیمانہ بنتا ہے
1941ء میں جب گاندھی اِرون پیکیٹ ہوا تھا تو چرچل نے بڑے طمطراق سے طنز کیا تھا’’ آج ایک ننگے فقیر کی بھی ہمت ہے کہ وہ دہلی کے گورنمنٹ ہاؤس میں وائسرائے سے برابری کے درجہ پر گفتگو کر رہا ہے؟“چر چل یہ دیکھنے کے لیے زندہ ہے کہ ان کی طرح محض لفاظی سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور پیغام کی صداقت کی بدولت وہی نگا فقیر بقائے دوام کی اونچی سے اونچی منزل پر پہنچ گیا۔ چرچل نے کہا کہ تھا کہ اب گاندھی ایک زائل شدہ قوت ہیں، آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ زندگی میں کیا مرنے کے بعد بھی گاندھی ایک بڑھتی ہوئی ہمہ گیر قوت ہے، عیاں راچہ بیاں۔
قتل کیوں؟
گاندھی جی کیوں مارے گئے ؟ انہوں نے کون سا ایسا نا قابل تلافی قصور کیا تھا جس کی پاداش میں ان کے اسی سالہ زار و نزار جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ؟ نسل انسانی ان کا جرم سننے کے لیے ہمیشہ مشتاق رہے گی ، ان کا جرم اگر کوئی تھا تو صرف یہ یہ کہ وہ کہتے تھے کہ نفرت کا جواب محبت سے دو۔ ایک کا جرم اور غلطی دوسرے کے جرم اور غلطی کا جواز نہیں بن سکتا۔ برائی ہمیشہ برائی ہی رہے گی، انسانیت نا قابل تقسیم ہے، سب انسان خواہ وہ کسی مذہب اور ملت کے ہوں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان محبت اور اخوت ہونا چاہئے نہ صرف اسی جرم پر کلکتے میں ان پر پتھر برسائے گئے، لاٹھیاں چلائی گئیں۔ بہار میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے ، ان کو گالیاں سنائی گئیں، کھلے الفاظ میں مار ڈالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے روزہ رکھا تو گ’’اندھی کو مر جانے دو“ کے نعرے لگائے گئے۔ ان پر بم پھینکا گیا اور بالآخر گولیاں مارکر ان کو ہلاک کر دیا گیا۔ تاریخ کا بڑا سنگین طنز ہے کہ ہندوستان کا وہ محسن اعظم جو برطانی گولیوں کی بوچھار میں مسکراتا ہوا گھس جاتا تھا اور کبھی اس کا بال نہیں بریکا ہوا، ہندوستان کو آزاد کرا دینے کے بعد خود ایک ہندوستانی کے ہاتھوں اس وقت مارا گیا جب کہ ہندوستان کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
گاندھی جی دیکھ رہے تھے،سن رہے تھے، سمجھ رہے تھے کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اور یہ خطرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بعض لوگ جنہیں ان کی یہ بات نا پسند تھی کہ پاکستان کے انتقام میں ہندوستانی مسلمانوں پر کسی قسم کا ظلم یا ان کے ساتھ کوئی بے انصافی نہ کی جائے ان کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ موت کی بڑھتی ہوئی پر چھائیں انہیں صاف نظر آرہی تھی لیکن وہ اس سے خائف نہیں تھے۔ اور خائف ہو بھی کیسے سکتے تھے؟ انہوں نے اپنی زندگی میں ڈرنا اور خائف ہونا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ خطرات بڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک سرفروشانہ جذبے سے سرشاران کا جوش و خروش بھی بڑھتا جاتا ، وہ پہلے سے زیادہ تیزی اور تندہی کے ساتھ وہ کہنے اور کرنے لگے، جو ان کے دل سے لگی ہوئی تھی۔ حکومت نے چاہا کہ ان کی حفاظت کی جائے اور ان کے گرد پولس اور فوج تعینات کی جائے لیکن وہ راضی نہیں ہوئے ۔ انہوں نے اس کو اپنے مسلک کے منافی سمجھا کہ وہ ستیہ اہنسا کا پیغام سناتے وقت خود اپنے بھائیوں میں پولس اور فوج کی معیت میں جائیں۔ ان سے کہا گیا کہ اچھا صرف اس کی اجازت دے دیجئے کہ آپ کے پاس اور آپ کے عبادتی جلسے میں جو لوگ آئیں ان کی جامہ تلاشی لے لی جایا کرے۔ اس کا جواب اس شریف ترین انسان نے یہ دیا کہ مجھے اپنی جان اتنی عزیز نہیں ہے کہ میں اس کے پیچھے اتنے لوگوں کی تو ہین اور تکلیف برداشت کروں، ایک سچا ستیہ گر ہی موت سے نہیں ڈرتا ۔
کسی امریکن نے بہت خوب کہا ہے کہ اگر گاندھی جی کو یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کا قاتل ریوالور لیے ان کے کمرے کے باہر ٹہل رہا ہے، تو بھی وہ بلا جھجھک وہ کمرے سے باہر نکل آتے کیوں کہ وہ موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے۔ وہ خطرات سے بھاگتے نہیں بلکہ ان میں گھس جانے کے عادی تھے۔ انہیں خدا پر بھروسہ اور اپنی صداقت پر اعتماد تھا۔ ان کی یہ جاں بازی ان کی تعلیم کا ایک بہت بڑا جز بھی جس کا ہندوستانی عوام پر بہت گہرا اثر پڑتا تھا۔ دنیا بھر کے دبے اور کچلے ہوئے دیہاتی بھی سمجھتے کہ اگر انہوں نے سینه تان کر گاندھی جی کی جے بول دی تو پھر ان کے سب ڈر دور ہو جائیں گے۔ گاندھی جی کے صرف نام ہی سے ان میں بڑی قوت پیدا ہو جاتی اور کیوں نہ ہوتا؟ یہ نام انہیں گاندھی جی کے کردار کی طرف متوجہ کر دیتا جو مثل آفتاب کے ان کے سامنے تھا۔
گاندھی انسانی فطرت اور نفسیات کی ان اتھاہ گہرائیوں میں اتر چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے گرد فرقہ وارانہ تنفر اور قتل و غارت گری کی جو آگ لگی ہے وہ اور بھڑکتی ہی چلی جارہی ہے اور اس کے بچھانے کے لیے انہیں اب ایک سیلاب ہی لانا ہوگا۔ چنانچہ وہ سیلاب تھا ان بھڑکتے ہوئے شعلوں میں خود پھاند پڑنا ایک سچے ستیہ گر ہی نے اپنا آخری حربہ بھر پور طریقہ سے استعمال کر دیا۔ اس نے اپنی جان بھی اپنے مقصد زندگی کو سونپ دی۔ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا ہے۔ اب یہ فیصلہ تاریخ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس کی انمول قربانی سے کیا فیض اٹھاتی ہے؟

ماخذ: غالب اردو اور ہندوستان




