طلبہ کے احتجاج کے بعد بی سی آئی نے بڑا فیصلہ واپس لیا
بی سی آئی نے نالسار یونیورسٹی کے 2026 بیچ کے گریجویٹس کے وکالت میں اندراج پر عائد پابندی واپس لے لی۔
بار کاؤنسل آف انڈیا (بی سی آئی) نے حیدرآباد کی نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نالسار) لا یونیورسٹی کے 2026 بیچ سے فارغ التحصیل طلبہ کے وکالت میں اندراج پر عائد کی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان طلبہ کے لیے بطور وکیل پیشہ ورانہ طور پر رجسٹر ہونے کی راہ دوبارہ کھل گئی ہے۔اس سے قبل بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا نے ملک کی تمام ریاستی بار کاؤنسلوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ نالسار یونیورسٹی کے 2026 بیچ سے گریجویشن کرنے والے طلبہ کو اگلے حکم تک وکیل کے طور پر رجسٹر نہ کریں۔ اس فیصلے نے قانونی حلقوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ میں بھی تشویش پیدا کردی تھی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نالسار یونیورسٹی کے کچھ فارغ التحصیل طلبہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کی یونیورسٹی کے دی کانووکیشن میں شرکت کی مخالفت میں ایک مہم چلائی۔ اطلاعات کے مطابق طلبہ نے دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق چیف جسٹس کے بعض تبصروں پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی دی کانووکیشن میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔طلبہ کی اس مہم پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا نے نالسار کے وائس چانسلر سے ایک مستند رپورٹ طلب کی تھی۔ رپورٹ میں ان افراد کی شناخت کرنے کو کہا گیا تھا جنہوں نے چیف جسٹس کی شرکت کے خلاف مہم شروع کی یا اس میں فعال کردار ادا کیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ معلومات مقررہ مدت کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
قانونی امور سے متعلق ویب سائٹس لائیو لا اور بار اینڈ بینچ نے اس معاملے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بی سی آئی نے طلبہ کے اس اقدام کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ تاہم، بعد میں کونسل نے 2026 بیچ کے تمام گریجویٹس کے اندراج پر پابندی لگانے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔بی سی آئی کے فیصلے کی واپسی کو طلبہ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وکالت میں اندراج کسی بھی قانون کے گریجویٹ کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے بنیادی مرحلہ ہوتا ہے۔ پابندی برقرار رہنے کی صورت میں نالسار سے فارغ ہونے والے طلبہ کو وکیل کے طور پر عملی میدان میں قدم رکھنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
اس پورے معاملے نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اظہارِ رائے، احتجاج کے حق اور پیشہ ورانہ اداروں کے اختیارات سے متعلق بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف طلبہ کی جانب سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ دوسری طرف بی سی آئی نے یونیورسٹی سے احتجاجی مہم میں شامل افراد کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ اب اندراج پر پابندی کا فیصلہ واپس لیے جانے کے بعد نالسار کے 2026 بیچ کے طلبہ کو وکالت کے شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع مل گیا ہے۔






