جسٹس ورما کے گھر نقدی معاملہ،تحقیقاتی کمیٹی نے الزامات درست ٹھہرائے
جسٹس یشونت ورما کے گھر سے بے حساب نقدی معاملے کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش، کمیٹی نے الزامات درست قرار دے دیے۔
نئی دہلی: جسٹس یشونت ورما کے سرکاری رہائشی احاطے میں مبینہ طور پر نقد رقم ملنے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کردی ہے۔ یہ کمیٹی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں جسٹس ورما کے خلاف عائد بعض اہم الزامات کو درست قرار دیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جسٹس یشونت ورما کے سرکاری مکان کے اسٹور روم سے ملنے والی بے حساب نقد رقم کے بارے میں وہ ایسا اطمینان بخش جواب پیش نہیں کرسکے جس سے رقم کی موجودگی، اس کے اصل ماخذ اور ملکیت سے متعلق سوالات واضح ہوسکتے۔ کمیٹی نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں متعدد نکات درج کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جسٹس ورما کے خلاف بے حساب نقدی رکھنے، معاملے سے متعلق شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور تحقیقات کے دوران تسلی بخش وضاحت نہ دینے کے الزامات سامنے آئے۔ تین رکنی کمیٹی کو ججوں سے متعلق تحقیقات کے قانونی طریقہ کار کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس نے معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق جسٹس ورما اپنے سرکاری رہائشی احاطے کے اسٹور روم میں موجود نقد رقم کے حوالے سے واضح وضاحت دینے میں ناکام رہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر اس رقم کے ماخذ اور اس کی ملکیت سے متعلق سوالات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ دستیاب شواہد اور وضاحتوں کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس معاملے میں پیش کیے گئے جواب کو اطمینان بخش نہیں سمجھتی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسٹور روم سے 500 روپے کے نوٹوں کی بڑی تعداد میں گڈیاں برآمد ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ ان نوٹوں کی موجودگی کے بارے میں بھی کوئی ایسا قابلِ قبول حساب پیش نہیں کیا گیا جس سے رقم کے بارے میں اٹھنے والے سوالات ختم ہوسکتے۔تحقیقاتی کمیٹی نے شواہد سے متعلق ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کی۔ اس کے مطابق واقعے سے متعلق ثبوتوں کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنے میں بھی خامیاں پائی گئیں۔ کمیٹی نے کہا کہ اسٹور روم کو قانونی طور پر سیل کرکے اس کی مکمل جانچ شروع کیے جانے سے قبل وہاں موجود شواہد کی حالت میں تبدیلی ہوئی، جس سے معاملے کی تحقیقات پر سوالات پیدا ہوئے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب جسٹس یشونت ورما کے سرکاری رہائشی احاطے میں نقد رقم ملنے کی اطلاع نے عدالتی اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ اس کے بعد معاملے کی باقاعدہ جانچ کے لیے پارلیمانی سطح پر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے دستیاب مواد، شواہد اور متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کی ہے۔جسٹس یشونت ورما رواں سال اپریل میں ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ اب تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ رپورٹ میں لگائے گئے نتائج کے بعد معاملے کے آئندہ قانونی اور آئینی مراحل پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔






