جَنتر منتر سیزن ٹو کی گونج، سی جے پی نے بگل بجادیا
جَنتر منتر سیزن ٹو جلد شروع ہوگا، سی جے پی بانی ابھجیت دیپکے نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا بڑا اعلان کردیا۔
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کی جانب سے جَنتر منتر پر احتجاج کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ جَنتر منتر کا دوسرا سیزن کب شروع ہوگا، اور اب اس کا وقت قریب آ گیا ہے۔ابھجیت دیپکے نے بدھ کے روز کہا کہ جَنتر منتر پر ہونے والی گزشتہ سرگرمیوں کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں میں ایک بار پھر جوش پایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا خصوصاً انسٹاگرام پر متعدد افراد مسلسل یہ سوال کر رہے تھے کہ احتجاج کا اگلا مرحلہ کب شروع ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی جے پی اس سلسلے میں جلد ہی دوبارہ میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔
سی جے پی کے بانی نے دہلی میں پارٹی کے رضاکاروں کی ایک میٹنگ منعقد کرنے کے لیے پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم نے رضاکاروں کی ملاقات کے لیے ایک ہال تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن کئی مقامات پر انہیں جگہ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ دیپکے کے مطابق، بعض ہال مالکان نے یہ کہتے ہوئے جگہ دینے سے معذرت کی کہ انہیں مبینہ طور پر اوپر سے دباؤ کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کافی کوشش کے بعد ایک ہال دستیاب ہوا اور اس کی بکنگ کی رسید بھی ان کے پاس موجود ہے۔لیکن ان کے دعوے کے مطابق، میٹنگ سے عین قبل ہال کے مالکان پر دباؤ ڈالا گیا اور انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں کہ اگر سی جے پی کو وہاں اجلاس کرنے کی اجازت دی گئی تو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
دیپکے نے ان مبینہ واقعات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت یا حکمراں جماعت نوجوانوں کی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے اور اسی وجہ سے مختلف طریقوں سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔سی جے پی رہنما نے کہا کہ اگر کسی کو یہ امید ہے کہ ہال کے انتظام میں مشکلات یا اس طرح کے مبینہ دباؤ سے ان کی جماعت اور اس کے رضاکار خوفزدہ ہو جائیں گے تو یہ غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوششیں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ابھجیت دیپکے کے اس بیان کے بعد جَنتر منتر پر ممکنہ احتجاج کے دوبارہ آغاز کو لے کر سیاسی حلقوں میں بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سی جے پی اپنے اعلان کو عملی شکل کب دیتی ہے اور آئندہ احتجاج کا دائرہ اور مطالبات کیا ہوں گے۔






