خبرنامہ

گمراہ نوجوانوں کو سزا نہیں، رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران اپنے خلاف لگنے والے نعروں اور سخت زبان کے استعمال پر نسبتاً نرم اور مفاہمتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نوجوانوں کو دشمن نہیں بلکہ ’’گمراہ بچے‘‘ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو سخت قانونی کارروائیوں میں الجھانے کے بجائے انہیں صحیح سمت دکھانا زیادہ ضروری ہے، کیونکہ مستقبل کی تعمیر انہی کے ہاتھوں میں ہے۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ معاشرے کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ نئی نسل کی تربیت اور رہنمائی بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان جذبات میں آ کر غلط رویہ اختیار کر بیٹھیں تو ان کے ساتھ انتقامی طرزِ عمل اپنانے کے بجائے انہیں سمجھانے اور مثبت راستہ دکھانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
مودی نے واضح کیا کہ وہ احتجاج کے دوران اپنے خلاف استعمال ہونے والی تلخ زبان کو ذاتی مسئلہ نہیں بنانا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے نوجوانوں کو معاف کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ معاشرہ بھی برداشت اور درگزر کی اسی روایت کو فروغ دے گا۔ ان کے مطابق نفرت، گالم گلوچ اور اشتعال انگیز زبان کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتی، جب کہ باہمی احترام، مکالمہ اور تعاون ہی جمہوری معاشروں کو مضبوط بناتے ہیں۔
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں نوجوانوں سے اپیل کی کہ اختلافِ رائے ضرور کریں، لیکن اس کا اظہار مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب مل کر ملک کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے کام کریں تو بہت سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں امتحانی نظام اور مبینہ پیپر لیک کے معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ متعدد شہروں میں مظاہرے ہوئے، بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جب کہ کچھ احتجاجی اجتماعات میں وزیر اعظم کے خلاف سخت نعرے بازی اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔اس کے بعد حکومت نے امتحانی نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ پیپر لیک کی روک تھام کے لیے سخت قوانین، امتحانی اصلاحات اور طلبہ کے بعض مطالبات پر پیش رفت کے اعلانات سامنے آئے۔ اسی دوران وزیر تعلیم کے استعفے اور نئے اصلاحاتی اقدامات کے بعد احتجاجی تحریک بھی بتدریج ختم ہونے لگی۔
وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے اس مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اصل مسائل پر توجہ دینی چاہیے، جب کہ حکمراں جماعت کے حامیوں نے مودی کے بیان کو تحمل، برداشت اور مفاہمت کا پیغام قرار دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم کا یہ مؤقف صرف ایک ردِعمل نہیں بلکہ نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اصلاحات کے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کرتی ہے اور نوجوانوں کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھتی ہے تو اس سے مستقبل میں ایسے تنازعات کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر