سونم وانگچک کی قربانی یا سیاسی تنازع؟ اہلیہ نے سب کچھ بتا دیا
سونم وانگچک کی اہلیہ نے تنقید کے بجائے ان کی قربانیوں کو سراہنے کی اپیل کی، جب کہ 26 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد وہ آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔
سماجی کارکن اور ماحولیاتی ماہر سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سونم وانگچک کے فیصلوں پر تنقید کرنے سے پہلے ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اپنے پیغام میں گیتانجلی انگمو نے کہا کہ سونم وانگچک نے ذاتی مفادات یا آرام و آسائش کو ترجیح دینے کے بجائے ایک بڑے مقصد کے لیے طویل جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے یا تنقید کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وانگچک نے مسلسل 26 دن تک بھوک ہڑتال کرکے اپنے مطالبات اور اصولی مؤقف کے لیے کس قدر سخت حالات کا سامنا کیا ہے۔
گیتانجلی انگمو کے مطابق سونم وانگچک اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طویل فاقہ کشی کے باعث ان کے جسمانی وزن میں تقریباً 11 کلوگرام کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ ان کی عضلاتی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وانگچک نے اپنی صحت کو داؤ پر لگا کر احتجاج کا راستہ اختیار کیا اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کم از کم اس مرحلے پر وانگچک کے لیے ہمدردی اور انسانی جذبے کا مظاہرہ کیا جائے۔ ان کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان پر اپنی سیاسی وابستگیوں، توقعات یا نظریاتی اختلافات کا بوجھ نہ ڈالیں اور ان کی قربانی کو انسانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی ہے۔ ان کی بھوک ہڑتال مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا کی موجودگی میں ختم ہوئی۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آئے۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے وانگچک کے احتجاج ختم کرنے کے انداز پر سوال اٹھایا۔ ان کی جانب سے کیے گئے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، جس کے نتیجے میں وانگچک کے حامی اور ناقدین آمنے سامنے آگئے۔
دوسری جانب نیٹ۔یو جی امتحان کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر طلبہ کا احتجاج بھی جاری ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ مظاہرے کر رہے ہیں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی مطالبے کی حمایت میں سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال کی تھی، جس نے اس معاملے کو مزید قومی توجہ کا مرکز بنا دیا۔






