رانچی میں نیٹ پیپر لیک پر کانگریس، بی جے پی کارکن آمنے سامنے
رانچی میں نیٹ پیپر لیک پر کانگریس کے احتجاج کے دوران بی جے پی کارکن آمنے سامنے آگئے، نعرے بازی، ہنگامہ اور پولیس نے حالات قابو کیے۔
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر سیاسی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب کانگریس کے کارکن مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی دفتر کے باہر احتجاج کے لیے پہنچے۔ اسی دوران بی جے پی کے کارکن بھی بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہوگئے، جس کے باعث دونوں جماعتوں کے حامی آمنے سامنے آگئے اور ماحول کشیدہ ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان پہلے زبانی تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہوگئی۔ حالات مزید بگڑنے پر بعض افراد کی جانب سے ایک دوسرے پر انڈے اور ٹماٹر بھی پھینکے گئے، جس سے موقع پر کچھ دیر کے لیے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔
صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے پہلے ہی بی جے پی دفتر کے اطراف بیریکیڈز نصب کر رکھے تھے، جب کہ اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں گروپوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کی کوشش کی، جس کے بعد حالات بتدریج قابو میں آگئے۔بی جے پی کے مقامی رکنِ اسمبلی سی پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران معمولی پتھراؤ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی جماعت کے پانچ کارکن زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعد میں انہیں اطلاع ملی کہ ایک صحافی اور کانگریس کے چند کارکنوں کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔
دوسری جانب رانچی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راکیش رنجن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ان کے مطابق پولیس کے پاس کسی شخص کے زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں پہنچی اور شہر میں امن و امان برقرار ہے۔ بی جے پی کے ایک اور رکنِ اسمبلی آلوک کمار چورسیا نے کہا کہ ایک روز قبل ان کی جماعت نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کے دفتر کا گھیراؤ کیا تھا، جبکہ آج کانگریس نے اس کے جواب میں بی جے پی دفتر کے باہر احتجاج کیا۔
ادھر کانگریس کی رہنما اور ریاستی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ نے بی جے پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا احتجاج نیٹ پیپر لیک معاملے، طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج، مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے مطالبے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مقصد طلبہ کے مفادات کا تحفظ اور امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے مطالبات کو اجاگر کرنا ہے۔






