طلبہ کے مستقبل پر کرینہ کپور کا بڑا بیان، نظام پر سوال
کرینہ کپور نے طلبہ کے تحفظات کی حمایت کرتے ہوئے شفاف امتحانی نظام، مساوی مواقع اور محنت و قابلیت کے احترام پر زور دیا۔
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے ملک میں امتحانی نظام اور طلبہ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔کرینہ کپور نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف طلبہ اپنے مسائل اور خدشات سامنے لا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب ایسا ممکن نہیں کہ ان آوازوں کو مسلسل نظر انداز کیا جائے، کیونکہ یہ معاملہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل سے وابستہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بچوں اور نوجوانوں میں اعتماد، امید اور روشن مستقبل کا یقین پیدا کرتی ہے۔ اگر طلبہ کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی محنت، دیانت داری اور صلاحیت کی مناسب قدر نہیں کی جا رہی تو ان کا تعلیمی نظام پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہر طالب علم کو ایسا تعلیمی ماحول میسر آنا چاہیے جہاں شفافیت، انصاف اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط نظام وہی ہوتا ہے جہاں قابلیت کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں، محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتا جائے۔
کرینہ کپور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب بڑی تعداد میں نوجوان اپنے مستقبل سے متعلق سوالات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہوں تو ان کی بات سننا صرف اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ معاشرے اور متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سن کر ان کے اعتماد کو بحال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ آج اختیار کیے جانے والے فیصلے اور ردِعمل ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ آنے والی نسل تعلیم، انصاف اور شفافیت پر کتنا اعتماد رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو یقین ہو کہ ان کی محنت کا صحیح صلہ ملے گا تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکیں گے، جبکہ شفاف اور منصفانہ تعلیمی نظام ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ثابت ہوتا ہے۔






