ٹکٹ کٹنے پر نروتم مشرا کا دوٹوک مؤقف، سب حیران رہ گئے
نروتم مشرا کو بی جے پی نے ٹکٹ نہیں دیا، احتجاج کے بعد انہوں نے کارکنوں کو پُرامن رہنے اور پارٹی فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کی۔
مدھیہ پردیش کے سابق وزیرِ داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما نروتم مشرا کو دتیا اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے لیے پارٹی کی جانب سے امیدوار نہیں بنایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ان کے بعض حامیوں نے دتیا میں احتجاج کیا، جب کہ ہفتہ کی صبح چند مقامات پر پولیس پر پتھراؤ کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔اس صورت حال پر نروتم مشرا نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے کارکنوں سے تحمل اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج یا ہنگامہ آرائی کسی مسئلے کا حل نہیں، اس لیے کارکنوں کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ جن افراد نے ناراضی کا اظہار کیا ہے، ان سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق وہ خود بھی کارکنوں سے بات کر رہے ہیں اور پارٹی کے دیگر ذمہ داران بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نروتم مشرا نے امید ظاہر کی کہ تمام ناراض کارکن جلد ہی حالات کو سمجھتے ہوئے معمول پر آ جائیں گے اور اختلافات ختم ہو جائیں گے۔
پارٹی امیدوار آشو توش تیواری کے حق میں انتخابی مہم چلانے کے سوال پر نروتم مشرا نے کہا کہ وہ بی جے پی کے ایک وفادار کارکن ہیں۔ اگر پارٹی قیادت انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے کی ذمے داری سونپتی ہے تو وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس ذمے داری کو نبھائیں گے اور امیدوار کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر انتخاب میں متعدد رہنما ٹکٹ کے امیدوار ہوتے ہیں، لیکن پارٹی اجتماعی مشاورت کے بعد فیصلہ کرتی ہے۔ اس لیے ٹکٹ نہ ملنے کو ذاتی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پارٹی سے کوئی شکایت نہیں، کیونکہ بی جے پی نے انہیں مختلف مواقع پر اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں اور وہ اس اعتماد کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
نروتم مشرا نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پارٹی کے تمام کارکن متحد رہیں گے اور تنظیم کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے آئندہ انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔






