مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت پیغام، والد کے خون کا بدلہ لینے کا عزم
مجتبیٰ خامنہ ای نے والد کے خون کا بدلہ لینے کا عزم دہرایا، ذمہ داروں کو سخت انجام کی دھمکی دیتے ہوئے عالمی حمایت کا دعویٰ کیا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا ہے، جس میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ ہر صورت لینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، اور ان کے خون سمیت دیگر جان بحق افراد کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔جاری کردہ بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں افراد سے اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت، یکجہتی اور حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنے رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق عوام کی خواہش ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس مطالبے کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ مبینہ طور پر حملوں میں ملوث تمام افراد کی تفصیلات ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار افراد کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی انجام سے بچ جائیں گے۔ بیان کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک فرد یا عہدے تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اگر موجودہ قیادت نہ بھی رہے تو بھی یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں ایران کے حامی اور خود کو آزادی پسند کہنے والے افراد بھی اس مقصد میں اپنا کردار ادا کریں گے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم امام حسینؑ کی قربانیوں کو اپنی تاریخ اور شناخت کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ ان کے بقول یہی جذبہ آج بھی قوم میں موجود ہے، اور وہ اپنے شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتی۔
دوسری جانب یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ والد کے انتقال کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر قرار دیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھی دکھائی نہیں دیے، نہ ہی اب تک ان کی جانب سے کوئی ویڈیو یا آڈیو خطاب جاری کیا گیا ہے۔ ان کے نام سے اب تک صرف تحریری بیانات ہی منظرِ عام پر آئے ہیں، جن پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔






