سپریم کورٹ کے بعد ٹرمپ پر 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ لازم
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ای جین کیرول نے ٹرمپ سے 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ وصول کرنے کی درخواست کر دی.
امریکی صدر ڈونالڈکے خلاف ہتکِ عزت اور جنسی زیادتی سے متعلق مقدمے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد معروف مصنفہ ای جین کیرول نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ جیوری کے پہلے سے سنائے گئے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ٹرمپ کو 50 لاکھ امریکی ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔یہ معاملہ چند برس قبل دائر کیے گئے ایک دیوانی مقدمے سے متعلق ہے، جس میں جیوری نے ٹرمپ کو کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد ازاں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ عدالت نے اس مقدمے میں کیرول کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعد میں ٹرمپ نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست کی، لیکن امریکی سپریم کورٹ نے ان کی یہ اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد اب کیرول نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلے پر فوری عمل درآمد کرایا جائے تاکہ انہیں مقررہ ہرجانہ مل سکے۔کیرول کا مؤقف ہے کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں برگڈورف گڈمین کے ایک ٹرائل روم میں ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعد کے برسوں میں جب انہوں نے اس واقعے کا ذکر کیا تو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کے الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا، جس سے ان کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ٹرمپ مسلسل ان تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق کیرول کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ 82 سالہ ای جین کیرول ایک معروف امریکی مصنفہ اور صحافی رہ چکی ہیں اور ماضی میں ایک مشہور امریکی جریدے میں بطور کالم نگار بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اس مقدمے نے گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ میں خاصی توجہ حاصل کی ہے اور اب سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد ہونے کے بعد اس کیس میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا مرحلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔






