مہوا موئترا گھیراؤ کا شکار، دفتر پر شدید حملے
مغربی بنگال میں مہوا موئترا کے دفتر پر احتجاج کے دوران انڈے اور پتھر پھینکے گئے، انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا، پولیس خاموش رہی۔
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بدھ کے روز ایک سیاسی تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے اپنے ہی پارلیمانی حلقے کرشن نگر میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔اطلاعات کے مطابق ضلع نادیہ میں قومی شاہراہ کے قریب قائم ان کے مقامی عارضی پارٹی دفتر کے باہر ایک گروہ نے احتجاج کیا۔ اس دوران دفتر کی عمارت کی طرف انڈے اور دیگر اشیا پھینکی گئیں، جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے کی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ احتجاج کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے نہ صرف انڈے بلکہ پتھر بھی پھینکے، جن میں سے ایک پتھر انہیں بھی آ کر لگا۔
ویڈیو میں، جو عمارت کی بالائی منزل سے بنائی گئی، دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد انڈے دفتر کی کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکراتے ہیں، جبکہ پس منظر میں مہوا موئترا کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے دفتر کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ صورتِ حال سب کے سامنے آنی چاہیے۔ٹی ایم سی رکنِ پارلیمان نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کا فون موصول نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق شکایت کے بعد پولیس موقع پر پہنچی ضرور، لیکن اہلکار دور کھڑے ہو کر صورتحال دیکھتے رہے اور مظاہرین کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔جو ویڈیو میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
مہوا موئترا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے پارلیمانی حلقے میں موجود دفتر چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین چاہتے تھے کہ وہ دفتر سے باہر نکلیں تاکہ انہیں مزید نشانہ بنایا جا سکے، لیکن انہوں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا۔یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں اور اس واقعے پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ تاہم اس خبر کے سامنے آنے تک پولیس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا، جبکہ بی جے پی کی طرف سے بھی ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔






