سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال، وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ تیز
سونم وانگچک نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر جنتر منتر میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی، وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار۔
معروف سماجی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے اتوار کے روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا۔ یہ احتجاج مبینہ طور پر نِیٹ۔یو جی امتحان کے پرچہ لیک معاملے کے خلاف جاری تحریک کا حصہ ہے، جس میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے، اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، امتحانی نظام میں پیدا ہونے والی بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اس لیے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
بھوک ہڑتال شروع ہونے کے بعد سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے اعلان کے فوراً بعد دہلی پولیس نے جنتر منتر پر بنیادی سہولیات محدود کر دی ہیں۔ ان کے مطابق، مقامِ احتجاج پر پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے جبکہ صفائی ستھرائی کے انتظامات بھی ختم کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث مظاہرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے اپنی پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے متعدد مرتبہ پولیس حکام سے رابطہ کیا گیا اور انہیں سونم وانگچک کی عمر اور صحت کے پیشِ نظر ضروری سہولیات برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی، لیکن ان کے بقول پولیس کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہیں کیا گیا۔سی جے پی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو احتجاج کے دوران دیگر بنیادی سہولیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے مظاہرین کو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پارٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ایسی پابندیوں کا مقصد کیا ہے اور احتجاج کرنے والوں کو بنیادی سہولیات سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اس معاملے پر دہلی پولیس یا مرکزی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ سیاسی حلقوں اور عوام کی نظریں اب اس احتجاج اور حکومت کے ممکنہ مؤقف پر مرکوز ہیں۔






