تعلیمات وارشادات: حضرت بندگی شیخ مصطفیٰ عثمانی
محمد ابرار رضا مصباحی
جمال الحق بندگی شیخ مصطفی اپنی علمی و روحانی مجلسوں میں مؤثر اسلوب اور دل نشیں پیرایے میں طالبین و سالکین کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و تصفیہ فرماتے تھے۔ آپ کے ارشادات اخلاق و ادب، مروت و ہمدردی، اخوت و محبت، اصلاح و موعظت، پاکیزه تصوارت، تعلیم انسانیت، حسن نیت، احترام مشائخ ، رموز تصوف ، حقائق معرفت و غیرہ مضامین پرمشتمل ہوتے تھے، جیسا کہ آپ کے مجموعہ مکتوبات مکتوبات جمالی کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کی چند اہم اور ضروری تعلیمات کے نمونے آپ کے زریں مکتوبات ہی کے حوالے سے یہاں پیش کیے جاتے ہیں :
راہ طریقت میں سچی عقیدت اور حسن ظن ہی سے کام بنتا ہے اور راہ آسان ہوتی ہے۔
دوست کی طلب میں اس کی حقیقت ظاہر ہونے کے بعد ایک بار جان دے دینا ہی ابدی شہادت اور سرمدی دولت ہے۔
جب تک اپنے آپ سے فنائے مطلق نہ ہوا اور بقا با لشیخ حاصل نہ ہو جائے ، اس وقت تک کچھ نظر نہیں آئے گا۔ لہذا خود کو شیخ کے سپرد کر دو، جیسا کہ مردہ، نہلانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ارادت کا مطلب اپنے ارادرے کو ترک کر دینا ہے۔
راه معرفت میں مقام و مرتبے کا حصول صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت اور پیر کامل کی توجہ ہی پرمنحصر ہے، گویا پیر روشن ضمیر سے باطنی تعلق ہی اس راہ کی اصل پونجی ہے۔
دل شیخ کی یادے کسی وقت بھی خالی نہ رہے، تا کہ محبت کا پھل نصیب ہو۔ من احب شَيْئًا أَكثر ذكره
اس امر میں مضبوط ارادہ رکھنا چاہیے کہ کسی حال میں بھی خدمت خلق کا جذبہ کم نہ ہو، کیوں کہ خدمت ہی سے سب کچھ حاصل ہوتا ہے، اگر کوئی مردہ اور مزار کی بھی خدمت کرے تو اسے اس کا بھی اجر ملتا ہے۔
محبوب کی خدمت اس کی محبت کا حسین ثمرہ ہے، محبوب کی خدمت میں جس نے لذت محسوس کی ، اسے اپنی محبت کے کامل ہونے کا یقینی علم حاصل ہو گیا اور وہ محبوب کے فیصلے پر راضی ہو گیا
کسی چیز کے ملنے سے خوش اور کسی چیز کے کھو جانے سے غم زدہ نہ ہو اور ہمیشہ دوست کے غم ، اس کے خیال اور اس کی خدمت میں زندگی گزاردو !
مرید کو اپنے لیے مخصوص لباس کا پابند نہیں ہونا چاہیے، جو مل جائے پہن لے کہ اہل تصوف کا مقصود ظاہر لباس نہیں ہے۔
آقا کی غلامی میں کمر کس لو اور صوفی ہو جاؤ کہ سجادہ پر بیٹھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ کام کرنا چاہیے۔ خواہ خالق کی عبادت ہو یا مخلوق کی خدمت ، اُس سے ہرگز غافل نہ رہے۔
شیخ کو ہمیشہ خلق کی ترغیب و تسخیر کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے کہ جو کچھ مقدر ہے، اپنے وقت پر ہی ہوگا، کسی نبی کی امت ایک شخص کسی نبی کی دو اور بعض کی امت ہزار بلکہ اس سے کہیں زیادہ افراد پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باللہ کسی نبی کی نبوت میں نقص و قصور تھا۔
صحیح تو بہ ( بیعت ) کے بعد شیخ کی صحبت و خدمت لازم ہے اور اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ شیخ کے کسی فعل و عمل پر اعتراض نہ ہو کہ وہ اس کے انجام کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ اس کے اکثر افعال تمھیں بظاہر غیر شرعی نظر آئیں گے، مگر اللہ کے نزدیک وہ حق ہیں، اور حق پر اعتراض کرنا کفر ہے۔
. شیخ یا اس کے علاوہ کس پر بلکہ کسی فقیر پر بھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کا امتحان لینا چاہیے، کیوں کہ امتحان میں تکلف (وقت) ہے۔ ممکن ہے کہ وہ امتحان اس کی طاقت سے باہر ہو یا تقاضہ وقت کے مطابق نہ ہو اور تم اس کے منکر ہو جاؤ ۔ العیاذ بالله – اور بسا اوقات شیخ پر اعتراض اور اس کا انکار کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ اس میں فقیر کا کوئی قصور نہیں ہے چرا عاقل کند کارے کہ باز آید پشیمانی اور اگر وہ امتحانی فعل اس سے صادر بھی ہو جاتے تو تمھیں کیا فائدہ۔لہذا اے عزیز ایجائے امتحان کے طالب حق رہو، اگر میسر ہو یا میسر نہ بھی ہو تو اللہ تمھاری نیت کے مطابق اس کا ثواب دے گا۔
صوفی کے دل میں غیر حق کا خیال آنا ہی شرک ہے۔
جب تک التفات حق آواز دے، اس وقت تک استماع حصول سے جدا ر ہے۔
. آدمی عشق ( محبت ) ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے عشق ہی کی طلب ہونی چاہیے، نہ کہ دنیا و آخرت کی۔ دنیا تمھارے لیے عقبی تمھارے لیے اور مولی میرے لیے ہے۔
جاننا چاہیے کہ ع، عقل ہے ، ش شرم ہے اور ق قرار ہے ۔ وہ یہ تجھ سے لے لے اور اس کے عوض تجھے “ع” عفت “ش” شغف “ق” قرب عطا فرمائے ، چوں کہ عاشق کو عشق میں عقل و شرم و قرار نہیں ہوتا ، اس لیے اسے معشوق کے غیر سے عفت اور اس کی ذات سے قربت نصیب ہوتی ہے۔ طالب کو جب کو چہ عشق میں باریابی کی توفیق مل جائے تو چاہیے کہ محبوب کے لیے سراپا ادب بن جائے ، کیوں کہ تصوف از ابتدا تا انتہا ادب ہی کا نام ہے۔
(ماخوذاز : بندگی شیخ مصطفیٰ عثمانی: احوال و آثار)





