طلبہ کی بڑھتی حمایت نے حکومت کو پریشان کر دیا: کانگریس
راہول گاندھی کے کوٹہ پروگرام سے حکومت گھبرا گئی، پوسٹر ہٹائے جا رہے ہیں، طلبہ کی حمایت سے بی جے پی پریشان ہے: کانگریس۔
کانگریس نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور راجستھان کی بی جے پی حکومت اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے مجوزہ کوٹہ دورے اور طلبہ سے ان کی ملاقاتوں سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے انتظامیہ کے ذریعے ان کے پروگرام کے تشہیری پوسٹر ہٹائے جا رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حکومت کی بے چینی اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی ترجمان راگنی نائک نے کہا کہ کوٹہ میں راہل گاندھی کے پروگرام کی تشہیر کے لیے مختلف مقامات پر پوسٹر نصب کیے جا رہے ہیں، لیکن انتظامیہ کے اہلکار بعد میں انہیں ہٹوا دیتے ہیں۔ انہوں نے اس دعوے کے حق میں ایک ویڈیو بھی صحافیوں کو دکھائی، جس میں مبینہ طور پر راہول گاندھی کے پروگرام سے متعلق پوسٹر اتارتے ہوئے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ریاستی حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز کو دبانے کے لیے سرکاری طاقت کا استعمال کر رہی ہیں، لیکن ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق طلبہ خود بڑی تعداد میں راہول گاندھی سے ملاقات اور اپنے مسائل پیش کرنے کے لیے آگے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکمران جماعت پریشان دکھائی دیتی ہے۔

کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کو عوام اور متاثرین سے ملنے سے روکنے کی کوششیں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہاتھرس، سنبھل، لکھیم پور کھیری، بہار کے امبیڈکر ہاسٹل اور منی پور تشدد سے متاثرہ افراد سے ملاقاتوں کے دوران بھی حکومت نے مختلف رکاوٹیں کھڑی کیں، لیکن ہر بار عوامی حمایت کے باعث یہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت نے کانگریس یا راہول گاندھی کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی، اسے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔
راگنی نائک نے ملک میں نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) اور انڈین یوتھ کانگریس نے پیپر لیک اور سی بی ایس ای کے او ایس ایم امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں پچاس سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے، لیکن ان مظاہروں سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پولیس کا سہارا لیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیر اعظم نریندر مودی نے طلبہ کے مسائل پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جب کہ اے بی وی پی اور بھارتیہ جنتا یووا مورچہ بھی نوجوانوں کے خدشات پر کوئی مؤثر موقف اختیار نہیں کر رہے۔ کانگریس کے مطابق موجودہ حکومت نے تعلیم اور روزگار سے وابستہ مسائل کے حل میں ناکامی کے ذریعے نوجوانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، جب کہ راہل گاندھی مسلسل طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔






