جنترمنترپرسی جے پی کادھرنا جاری،پولیس پر کارکنوں کو روکنے کا الزام
جنتر منتر پر سی جے پی کا دھرنا جاری ہے، پولیس پر کارکنوں کو روکنے کا الزام لگایا گیا جبکہ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی جاری ہے۔
نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین اور پارٹی کارکنوں کو دھرنے کے مقام تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔ پارٹی کی قیادت نے اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پرامن احتجاج متاثر ہو رہا ہے، جب کہ سرکاری سطح پر اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ان کے مطابق متعدد افراد، جو احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچ رہے تھے، انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے کئی اہم اراکین کو بھی دھرنا گاہ تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے اپنی پوسٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کو احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے تو آخر اس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے اور انتظامیہ کو اس بارے میں وضاحت دینی چاہیے۔یہ احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے سلسلے میں جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ منگل کے روز اس دھرنے کا گیارہواں دن مکمل ہوا، جب کہ احتجاج میں مختلف سماجی کارکن اور طلبہ بھی شریک ہیں۔
اسی احتجاجی مہم کے تحت معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ منگل کو ان کی بھوک ہڑتال کا تیسرا روز تھا۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن طریقے سے آواز بلند کر رہے ہیں اور حکومت سے مثبت مذاکرات کی امید رکھتے ہیں۔دوسری جانب جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رہے۔ اگرچہ احتجاج جاری ہے، تاہم پولیس یا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک سی جے پی کے ان الزامات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ ایسے میں تمام نظریں آئندہ پیش رفت اور حکومت و مظاہرین کے ممکنہ مؤقف پر مرکوز ہیں۔






