اقرا حسن کا الزام، انصاف مانگنے پر پولیس نے حراست میں لیا
سہارنپور میں مقتول خاندان کے ساتھ انصاف مانگنے پہنچیں اقرا حسن، پولیس حراست اور کارروائی کے الزام پر سیاست گرم۔
اتر پردیش کے کیرانہ سے رکنِ پارلیمنٹ اور سماج وادی پارٹی کی رہنما اقرا حسن نے سہارنپور میں اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے انہیں اُس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ایک مقتول نوجوان کے اہلِ خانہ کے ساتھ انصاف کی اپیل کرنے ڈی آئی جی دفتر پہنچی تھیں۔ ان کے مطابق وہ مقتول کی والدہ اور چند دیگر افراد کے ساتھ صرف غیر جانبدارانہ جانچ کی درخواست لے کر گئی تھیں، لیکن وہاں انتظامیہ کا رویہ انتہائی نامناسب رہا۔اقرا حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک نوجوان کے قتل کے بعد اس کی والدہ انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں وہ چند ساتھیوں کے ساتھ ڈی آئی جی دفتر پہنچیں تاکہ معاملے کی شفاف تفتیش کی اپیل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتر کے اندر مقتول کی والدہ کو مناسب توجہ نہیں دی گئی اور وہ روتی ہوئی باہر آئیں، جس کے بعد وہ لوگ باہر کھڑے ہو کر اگلی کارروائی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ کے مطابق اسی دوران پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور انہیں و دیگر افراد کو ہٹانے لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں نہ تو کوئی بڑا ہجوم موجود تھا اور نہ ہی ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی تھی، اس کے باوجود انہیں خواتین تھانے منتقل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول خاندان کے دیگر افراد اور حمایتیوں کو بھی الگ تھانوں میں لے جایا گیا اور بعض کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔اقرا حسن نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی افسر کے دفتر جا کر انصاف کی اپیل کرنا جرم ہے تو پھر اس قانون کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقتول کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے خلاف کی گئی کارروائی واپس لی جائے اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
دوسری جانب سہارنپور پولیس کے جاری کردہ بیان میں کسی سیاسی شخصیت کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ ڈی آئی جی دفتر کے باہر کچھ افراد کی جانب سے سڑک جام کیے جانے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر راستہ کھلوایا اور قانونی کارروائی شروع کی۔اس معاملے پر سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ایک غم زدہ ماں کی مدد کرنا کوئی جرم نہیں ہونا چاہیے۔





