امریکہ نے وینزویلا سے تعلق رکھنے والا دو ٹینکر ضبط کیا
امریکہ نے وینزویلا سے تعلق رکھنے والے دو ٹینکرز ضبط کر لیے، روس نے کارروائی کی شدید مذمت کی۔
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وینزویلا سے منسلک دو تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکرز) اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری قوانین اور پابندیوں کی خلاف ورزی کے خدشے کے تحت کی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق پہلا ٹینکر جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں اس وقت تیل موجود نہیں تھا، شمالی بحرِ اوقیانوس میں قبضے میں لیا گیا۔ یہ مقام آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان واقع بتایا جاتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ اس جہاز کا وینزویلا کے ساحل کے قریب روکنے کے بعد کئی ہفتوں سے تعاقب کر رہا تھا۔ دورانِ تعاقب اس ٹینکر نے نہ صرف اپنا نام تبدیل کیا بلکہ اس پر روسی پرچم بھی لہرا دیا گیا، جسے امریکی حکام مشکوک اقدام قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس ٹینکر کو بچانے کے لیے روس کی جانب سے مدد بھی روانہ کی گئی تھی، جس میں ایک آبدوز سمیت دیگر معاونت شامل بتائی جا رہی ہے۔ تاہم اس سے پہلے کہ روسی مدد ٹینکر تک پہنچ پاتی، امریکی حکام نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔دوسرا ٹینکر جو خام تیل لے جا رہا تھا اور کیمرون کے پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا، کیریبین سمندر میں قبضے میں لیا گیا۔ اس وقت اسے سخت سیکیورٹی میں امریکہ کی ایک بندرگاہ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں جہازوں کی مکمل جانچ کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا تعلق پابندیوں کی خلاف ورزی یا غیر قانونی تجارت سے ہے یا نہیں۔
دوسری جانب روس نے امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس ٹینکر کو روسی پرچم کے تحت چلتا ہوا دکھایا گیا، اسے عارضی طور پر روسی پرچم استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ وزارت نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ملک کے دائرۂ اختیار میں باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔روسی حکام نے مزید کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور سمندری روایات کی خلاف ورزی ہیں اور یہ عالمی تجارت کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، پابندیوں اور سمندری سلامتی سے متعلق بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔





