امت شاہ کا اعلان، بستر کے قبائلی خاندانوں کو گائے، بھینس ملے گی
امت شاہ نے بستر میں ہر قبائلی خاندان کو گائے، بھینس دینے اور نکسل علاقوں میں ترقی تیز کرنے کا اعلان کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے بستر دورے کے دوران کہا کہ علاقے کے ہر قبائلی خاندان کو ایک گائے اور ایک بھینس فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ چھ ماہ کے اندر بستر میں ایک بڑا ڈیری نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے مقامی لوگوں کو روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔بستر میں منعقدہ مدھیہ علاقائی پریشد کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ نکسل متاثرہ علاقوں کو ترقی کی مرکزی دھارا سے جوڑنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً پچاس برس تک یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، اس لیے جب تک یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر سہولتیں نہیں ملتیں، تب تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
اس اجلاس میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی شریک ہوئے۔امت شاہ نے کہا کہ مختلف غیر بی جے پی حکومتوں نے نکسل مخالف مہم میں مرکز کا ساتھ دیا، تاہم سابق کانگریسی حکومت نے اس معاملے میں خاطر خواہ تعاون نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2023 میں چھتیس گڑھ میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد بستر میں باقی ماندہ نکسل سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے دوبارہ مہم تیز کی گئی۔انہوں نے اعلان کیا کہ نکسل ازم کے خاتمے کے بعد سیکورٹی فورسز کے تقریباً 70 کیمپوں کو ویر شہید گنڈادھر سیوا ڈیرہ میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں قبائلی خاندانوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
گفتگو کے دوران امت شاہ نے عدالتی نظام پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پوکسو اور عصمت دری کے مقدمات میں اگر وقت پر ڈی این اے جانچ مکمل ہو جائے تو سزا کی شرح سو فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانچ سال سے زیادہ عرصےسے زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے ہائی کورٹوں کو خصوصی عدالتیں قائم کرنی چاہئیں۔





