سی بی ایس ای کی نئی زبان پالیسی پر راہل گاندھی برہم
راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کی تین زبانوں کی نئی پالیسی، نیٹ لیک اور تعلیمی بدانتظامی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے نویں جماعت سے تین زبانوں کی تعلیم لازمی قرار دیے جانے کے فیصلے پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اس فیصلے سمیت تعلیم کے مختلف معاملات پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے طلبہ پہلے ہی کئی تعلیمی مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا، جب کہ سی بی ایس ای کے بارہویں جماعت کے نتائج میں او ایس ایم نظام کی خرابیوں کے باعث متعدد طلبہ کو توقع سے کم نمبر ملے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کئی طلبہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے درکار اہلیت سے محروم ہوگئے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اب نویں جماعت کے طلبہ پر اچانک ایک نئی زبان سیکھنے کی ذمے داری عائد کردی گئی ہے، حالانکہ متعدد اسکولوں میں نہ تو مطلوبہ اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی نصابی کتابوں کا مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض جگہوں پر طلبہ کو عارضی طور پر چھٹی جماعت کی کتابوں سے پڑھانے کی بات سامنے آرہی ہے، جو تعلیمی منصوبہ بندی پر سوال اٹھاتی ہے۔راہل گاندھی نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی پالیسیوں نے مختلف عمر کے طلبہ کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے۔ ان کے مطابق وزارتِ تعلیم مسلسل ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے طلبہ اور والدین دونوں پریشان ہیں۔
دوسری جانب سی بی ایس ای نے اپنے وضاحتی سرکلر میں کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور نیشنل کریکولم فریم ورک 2023 کے تحت تعلیمی نظام میں لسانی تنوع کو فروغ دینے کے لیے تین زبانوں کی تعلیم ضروری قرار دی گئی ہے۔ بورڈ کے مطابق ان زبانوں میں کم از کم دو زبانیں ہندوستانی بنیاد رکھنے والی ہونی چاہئیں۔ نئے ضابطے کا اطلاق تعلیمی سیشن 2026-27 سے نویں جماعت میں داخل ہونے والے طلبہ پر ہوگا، جبکہ دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں تیسری زبان کے پرچے سے استثنا برقرار رہے گا۔





