پوتن کا ریڈ اسکوائر میں یوکرین جنگ کا دفاع اور نیٹو تنقید
پوتن کا ریڈ اسکوائر میں یومِ فتح خطاب، یوکرین جنگ کا دفاع اور نیٹو پر سخت تنقید، جنگ بندی کا ذکر بھی شامل
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں منعقدہ سالانہ یومِ فتح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین جنگ کا بھرپور دفاع کیا اور مغربی فوجی اتحاد نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک ایک منصفانہ جنگ لڑ رہا ہے اور روسی فوج اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے یوکرین کو ایک جارح قوت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نیٹو مسلسل اس کی عسکری مدد کر رہا ہے اور جنگ کو طول دینے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ریڈ اسکوائر میں منعقدہ اس تقریب میں روسی فوج کے سینکڑوں اہلکاروں کے علاوہ مختلف ممالک کے چند عالمی رہنما بھی شریک تھے۔ یومِ فتح روس میں نہایت اہم قومی موقع سمجھا جاتا ہے اور یہ تقریب دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے۔ تاہم اس سال تقریبات ماضی کے مقابلے میں نسبتاً محدود اور سادہ انداز میں منعقد ہوئیں، جس کی ایک وجہ یوکرین جنگ اور سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب سے قبل روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس جنگ بندی کے اعلان کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ اگرچہ جنگ بندی عارضی نوعیت کی ہے، لیکن اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تقریب کی ایک نمایاں بات یہ بھی رہی کہ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار ماسکو کی یومِ فتح پریڈ میں بھاری فوجی سازوسامان اور جدید جنگی ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان بڑی تعداد میں فوجی دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور قومی ترانے کی دھن پر روسی پرچم کو سلامی دی گئی۔
اپنے خطاب کے آغاز میں ولادیمیر پوتن نے دوسری عالمی جنگ میں سوویت فوجیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے جانبازوں کی قربانیاں آج بھی روسی فوج کے لیے حوصلے اور عزم کا ذریعہ ہیں۔ یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیوں میں شریک روسی اہلکار انہی تاریخی روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں اور قومی اہداف کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔





