ممتا بنرجی کا بی جے پی کے خلاف نئی تحریک کا اعلان
ممتا بنرجی نے بی جے پی کے خلاف نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے اتحاد کی اپیل کی۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز رابندر ناتھ ٹیگور کی سالگرہ کے موقع پر بی جے پی کے خلاف نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ کولکاتا میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں خوف اور دباؤ کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اب اس کے خلاف جمہوری اور اخلاقی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ممتا بنرجی نے مختلف اپوزیشن جماعتوں، سماجی تنظیموں اور غیر جانب دار پلیٹ فارمز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں شامل ہو کر متحدہ آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے متعدد اپوزیشن رہنما ان سے رابطے میں ہیں اور موجودہ سیاسی حالات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بائیں بازو اور شدت پسند بائیں بازو کی جماعتوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جمہوریت کے تحفظ کے لیے سب ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں تو یہ عوام کے حق میں بہتر ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنا چاہتی ہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ممتا بنرجی نے رابندر ناتھ ٹیگور کو ہندوستان کی فکری اور ثقافتی شناخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات آج بھی عوام کو اتحاد، آزادی اور جمہوریت کا درس دیتی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دیش بچاؤ جمہوری منچ کی جانب سے ٹیگور جینتی منانے کے لیے تین مختلف مقامات پر اجازت طلب کی گئی تھی، مگر انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق یہ اقدام جمہوری حقوق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ حالیہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی صرف 80 نشستیں حاصل کر سکی۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے 207 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی۔ انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کے رہنما شوبھیندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ نئی سیاسی صورتحال کے بعد ریاست میں اپوزیشن کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔





