بدلتے ہوئے عالمی نظام پر قابو پانے کی امریکی کوشش
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
14 ؍فروری 2026 کو منعقد ہونے والی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکی رہنما مارکو روبیو کی تقریر محض ایک سفارتی خطاب نہیں تھی بلکہ مغربی دنیا کی بدلتی ہوئی سوچ اور اس کی اسٹریٹجک سمت کا واضح اشارہ بھی تھی ۔ اپنی تقریر میں انہوں نے تاریخ، جغرافیائی سیاست، معیشت اور تہذیب کے سوالات کو یکجا کرتے ہوئے ایک نئے عالمی دور کی جھلک پیش کی۔ روبیو نے اپنی تقریر کا آغاز اس تاریخی اتحاد کی یاد دہانی سے کیا جس نے بیسویں صدی میں دنیا کو بڑے بحرانوں سے بچایا تھا۔ انہوں نے 1960 کی دہائی کا حوالہ دیا جب سرد جنگ کے باعث یورپ تقسیم تھا اور کیوبا میزائل بحران جیسے واقعات نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ اس وقت مغربی ممالک کے سامنے صرف فوجی چیلنج ہی نہیں بلکہ نظریاتی چیلنج بھی موجود تھایعنی اشتراکیت بمقابلہ آزادی۔ روبیو کے مطابق اس دور میں مغرب کی کامیابی صرف فوجی طاقت کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ مشترکہ اقدار اور مشترکہ مقصد کے احساس کی بدولت ممکن ہوئی۔ اسی اتحاد نے بالآخر سرد جنگ کے خاتمے اور برلن دیوار کے انہدام جیسے تاریخی واقعات کو ممکن بنایا۔
تاہم روبیو نے اس کامیابی کے بعد پیدا ہونے والے ایک ’’خطرناک فریب‘‘پر تنقید کی جسے اکثر’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ، جو فرانسس فوکویاما سے منسوب ہے، یہ دعویٰ کرتا تھا کہ لبرل جمہوریت ہی انسانی حکمرانی کی آخری شکل ہے اور پوری دنیا بالآخر اسی راستے پر چلے گی۔روبیو کے مطابق یہ تصور حقیقت سے دور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سوچ نے انسانی فطرت، قومی شناخت اور طاقت کے توازن جیسے بنیادی عناصر کو نظر انداز کیا۔ کیونکہ اس نظام میں تعداد (اکثریت) کو اہمیت حاصل ہے ۔ لہٰذا جو اکثریت (ایک یا کئی طبقات مل کر ) میں ہوتے ہیں وہ کمزور اور کم تعداد والے طبقات کو استحصال و ظلم کا نشانہ بناتے ہیں ۔ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو وہ ان کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھا پاتی کیونکہ اسے انتخابات مین ہار کا ڈر ستاتا ہے ۔ جنآزاد آئینی ادارے ان پر کاروائی کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں وہ بھی حکومت کی منشاء کا خیال رکھتے ہیں ۔ خود مغربی ممالک نے ایسی پالیسیاں اختیار کیں جن کے طویل المدت نقصانات سامنے آئے۔
روبیو نے اپنی تقریر میں خاص طور پر عالمی آزاد تجارت کی پالیسی پر تنقید کی۔ ان کے مطابق مغربی ممالک نے اپنی معیشتوں کو کھلا رکھا جبکہ دیگر ممالک نے تحفظاتی پالیسیاں اختیار کیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں صنعتی زوال آیا، لاکھوں ملازمتیں بیرونِ ملک منتقل ہو گئیں اور اہم سپلائی چینز حریف ممالک کے کنٹرول میں چلی گئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی اداروں پر حد سے زیادہ انحصار نے قومی خودمختاری کو کمزور کیا، جبکہ دوسری طاقتیں فوجی اور تکنیکی اعتبار سے زیادہ مضبوط ہوتی گئیں۔
روبیو نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اب ’’تجدید اور بحالی‘‘ کے راستے پر گامزن ہے۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی تشہیر کے دوران راشٹرواد اور امریکہ فرسٹ کو مدیٰ بنایا تھا ۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد صرف معاشی بحالی نہیں بلکہ مغربی تہذیب کی طاقت اور خود اعتمادی کو دوبارہ زندہ کرنا بھی ہے۔شاید اسی کے تحت امگرینٹ کے خلاف سختی ، کئی فلاحی اداروں کی گرانٹ کم کی گئی اور ٹیرف لگانے جیسے قدم اٹھائے گئے ۔ روبیونے یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکہ اس مقصد کو تنہا بھی حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ یورپ کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کو ترجیح دے گا۔ یہ بیان دراصل ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نئی تعریف دینے کی سمت ایک اہم اشارہ ہے۔
روبیو نے قومی سلامتی کو صرف فوجی یا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ ’’ہم آخر کس چیز کا تحفظ کر رہے ہیں؟‘‘ ان کا جواب واضح تھا۔ایک ایسی تہذیب جو اپنی تاریخ، اقدار اور کامیابیوں پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے یورپ کی فکری اور ثقافتی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے ولف گینگ امادیوس موزارٹ، لڈوِگ فان بیتھوون، ولیم شیکسپیئر، لیونارڈو ڈاونچی اور مائیکل اینجلو جیسے عظیم مفکرین اور فنکاروں کی مثالیں پیش کیں۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے روبیو نے اکیسویں صدی میں مغرب کے دوبارہ عروج کے امکانات ظاہر کیے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، صنعتی خودکاری، خلائی تحقیق اور اہم معدنیات کی فراہمی جیسے شعبوں میں قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔یہ نقطۂ نظر واضح طور پر ایک مسابقتی عالمی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں تکنیکی برتری ہی طاقت کی بنیادی بنیاد بنے گی۔روبیو نے قومی سرحدوں اور خودمختاری کے مسئلے پر بھی واضح موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں پر کنٹرول کسی قسم کی تنگ نظری یا نفرت کی علامت نہیں بلکہ ایک مستحکم اور محفوظ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اگرچہ انہوں نے بین الاقوامی اداروں کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن ان میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ مثال کے طور پر اقوامِ متحدہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ غزہ جنگ، یوکرین جنگ اور ایران کے جوہری بحران جیسے مسائل میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔روبیو نے اپنی تقریر میں اسرئیلی جارحیت ، غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ لوگوں کے قتل جس میں بڑی تعداد خواتیں ، بچے اور بزرگ شامل تھے کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ وہاسرائیل کے ذریعہ غزہ میں بین الاقوامی امدادکو آنے سے روکے جانے اور اقام متحدہ کے سکریٹری جنرل وہاں داخل ہونے سے روکے جانے کی بات بھی بھول گئے ۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اقوام متحدہ کے کسی بھی ریزولیوشن پر عمل کرنا تو دور اسرائیل نے قابل توجہ بھی نہیں سمجھا ۔ اس پر امریکہ یا اس کے حلیف ممالک نے کبھی کوئی نو ٹس لیا ۔
اپنی تقریر کے آخری حصے میں روبیو نے مغربی ممالک سے ایک بار پھر فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1945 کے بعد پہلی بار مغرب عالمی سطح پر پیچھے ہٹتا ہوا نظر آ رہا ہےاور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ دوبارہ قیادت سنبھالے۔مارکو روبیو کی یہ تقریر محض ماضی کا جائزہ نہیں بلکہ مستقبل کی اسٹریٹجک سمت کا ایک منشور تھی۔ اس میں ایک واضح پیغام تھا کہ مغرب کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنی شناخت اور طاقت کو دوبارہ مستحکم کرنا ہوگا۔ جیسا کہ انہوں نے آخر میں کہا ’’ماضی ختم ہو چکا ہے، مستقبل ناگزیر ہے‘‘اور یہی مستقبل اب مغربی دنیا کے سامنے ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں کی صورت میں کھڑا ہے۔
متن کے آخری حصے میں ایک تنقیدی مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کوئی استثنا نہیں ہیں بلکہ وہ اسی امریکہ کا بے نقاب چہرہ ہیں جو تشدد کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔جسے سامراجیت کہا جا سکتا ہے۔وینزویلا سے لے کر ایران اور اس کے بعد کیوبا یا اس سے پہلے اعراق، لیبیا، مصر ، سیریا، افغانستان وغیرہ دنیا بار بار وہی پرانی کہانی دیکھ رہی ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی (ریجیم چینج)کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کیا گیا ۔ حکومت بدلنے کی جو وجوہات بتائی گئیں ان میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہیں ہوئی ۔ مثلاً کہا گیا کہ عراق کے پاس جوہری ہتھیار ہیں ، پورا عراق برباد کر دیا گیا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں ملا ۔ مصر مین عوامی انقلاب کے بعد ہوئے انتخابات میں محمد مرسی صدر منتخب ہوئے ۔ حکومت کا جنرل عبدیل فتح السی سی کے ذریعہ تختہ پلٹ کراکر مرسی کو جیل میں ڈلوادیا گیا وہیں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر افغانستان کو کئی سال تک ملوث رکھا ۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی چوکیاں ، وینزویلا کے صدر کی گرفتاری ہویا ایران پر حملہ اس کے پیچھے ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ ہے یہاں موجود قدرتی وسائل پر قبضہ اور اسرائیل کی حفاظت ۔ ایران کی تازہ جنگ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ کی منشاء مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی پسند کی حکومتیں قائم کرکے حکمرانی کی ہے۔ ایران کو اس جنگ میں غیر معمولی نقصان ہوا ہے لیکن فی الحال اس نے امریکہ کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ ساتھ ہی عرب ممالک کو بھی بتا دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجودگی کس کی حفاظت کے لئے ہے اور اس کا مقصد کیا ہے ۔





