ادب سرائے

نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سو گواراں

آج میرے شہر کی شام تیز ہوا اور بارش کے ساتھ کچھ اس طرح آئی کہ جیسے وہ یاد دلانا چاہتی ہو کہ آنکھوں کو خشک نہیں ہونا چاہیے۔ طوفان ابھی تھما نہیں ہے اور بارش بھی تیز ہوا کے ساتھ کہیں دور جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔عید کا چاند ہم بھی دیکھنا چاہتے تھے،چھت کی بلندی سے،لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔کالی گھٹا اتنی تیزی کے ساتھ اٹھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔رمضان کا آخری عشرہ عید سے قریب ہو رہا تھا اور آس پاس کی دنیا لہو لہان تھی۔بلکہ لہولہان ہے۔چیخوں اور کراہوں کو سننے کی ہمت بھی اب باقی نہیں رہی۔عید کا چاند نکل گیا ہے،اور آج تو لازماً نکل گیا ہوگا۔مجھے میرؔ کا شعر ان دنوں بھی یاد آیا تھا جو دن کرونا کے تھے اور اسی طرح عید آگئی تھی۔ایک حساس آدمی کے لیے جشن کا کوئی بھی موقع افسردگی سے خالی نہیں ہوتا۔اداس ہو جانے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی تو بھی ہم اداس ہو جاتے ہیں ۔میرے شہر کی گلی جب سجائی جا رہی تھی،تو میں نے نوجوانوں سے پوچھا کہ اب سے پہلے تو کبھی اس طرح سجایا نہیں گیا۔ایک نوجوان کہنے لگا کہ کل عید ہے،اور عید ہے۔اس جملے نے مجھے نوجوان کی پرجوش عید کا احساس دلایا اور وقت کا بھی کہ ہم کیوں کسی نوجوان کی عید کو دنیا کے حالات سے وابستہ کر کے دیکھیں ۔ مجھے اپنے شہر کے ایک محلے میں عید کا چاند کتنی بار دکھائی دیا ہے اور ہر بار یہ محسوس ہوا کہ جیسے ایک چہرہ ہے جو چاند کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔یہ چھپا ہوا چہرہ ہر شہر کا ہے ہر معاشرے کا ہے۔ہم نے کتنا کچھ کھویا ہے اور ایک جشن ہے جو اپنی تہذیب کے ساتھ ہمیں یادداشت کے لمبے سفر پہ روانہ کر دیتا ہے۔ عید کا چاند اپنے وقت پر نکلاہے۔مگر وقت کتنا مشکل گزرا ہے۔قمقموں اور جھالروں میں ایک لال رنگ بھی ہے جو کالے رنگ کے ساتھ ہے اور اُجلا رنگ ان دو رنگوں کے درمیان سب سے نمایاں ہے۔میں نے ان رنگوں کوبہت غور سے دیکھا۔ان رنگوں نے زندگی کے کئی رنگوں کا احساس دلایا۔میں بھی ان رنگوں کے درمیان خود کو اپنے گھر اور محلے میں ہونے کے باوجود دور دراز علاقے میں خود کو محسوس کیا۔وہ دور دراز علاقے دور دراز کہاں ہیں ،پل بھر میں سارے حقائق سامنے آ جاتے ہیں ۔گھٹا چھٹ گئی ہے مگر بجلی ابھی تھمی نہیں ہے۔ہماری تہذیبی زندگی میں ایک فقرہ اب کم استعمال ہوتا ہے،مگر اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی یعنی تم عید کے چاند ہو گئے ہو یا کوئی عید کا چاند ہو گیا ہے۔کبھی کبھی دیر سے ملنے والا شخص عید کا چاند ہو جاتا ہے۔یہ عید کا چاند اپنی روشنی اور خوبصورتی کی وجہ سے نہیں بلکہ تاخیر کی وجہ سے ہے۔ورنہ تو چاند میں کسی چہرے کی تلاش کا جو مطلب ہے وہ میرؔ کے اس شعر سے ظاہر ہے۔
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل
چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی
میر نے’’لباس سوگواراں ‘‘کی ترکیب کو کائنات پرکچھ اس طرح پھیلا دیا ہے کہ عید ہوئی اس میں داخل ہو گئی ہے۔ لیکن میرؔ کو معلوم تھا کہ عید توعید ہے اسے شدت سے دیکھنے اور محسوس کرنے کی بہرحال ضرورت ہے۔خوشی کا ایک لمحہ دکھ کے ہزاروں لمحات کے ساتھ ہوتا ہے۔یہ دکھ اور خوشی کی ہم آہنگی اور شرکت قدرت کی طرف سے ہے۔پھر بھی مجموعی طور پر گزرے ہوئے مہینے اور ہفتے،اداسی کے بھی رہے ہیں اور دکھ کے بھی۔ہر روز ایک قیامت آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔دنیا کے بہت سے علاقوں میں خصوصاً ان علاقوں میں جہاں جنگ کی صورتحال ہے،لوگوں نے نم آنکھوں سے عید کا چاند دیکھا ہوگا اور چاند میں اپنے چاندکو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہوگی۔عید کا چاند کتنے روپوش اور لہو لہان چہروں کی یاد تازہ کر رہا ہوگا۔لیکن چاند تو اپنی فطرت پر ہے۔چاند کو دیکھنے والے بھی اپنی فطرت کے ساتھ ہیں ۔اپنے لاڈ لوں اور پیاروں کو کھونے کے بعد بھی عید کے چاند کی طرف دیکھنا اور دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھانا صبر اور شکر کی ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔دنیا نے پہلے بھی جنگ کا تجربہ کیا ہے،انسانی زندگی پہلے بھی بے دردی کے ساتھ پامال کی گئی ہے ،مگر یہ پامالی کسی نئی جنگ کا جواز تو نہیں ہو سکتی۔دنیا بھی پر امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔مگر ایک سخت دل ہے جو نرم ہونے کا نام نہیں لیتا۔سینے میں دل دھڑکتا ہے یا کچھ اور۔کون جانے کہ یہ سخت دل کتنی مدت کے بعد نرم یا موم ہوگا۔کل میں نے ناصر عباس نیر کی ایک گفتگو جنگ سے متعلق سنی تھی۔ان کا خیال ہے کہ جو نفسیاتی جنگ ہے اس کے ختم ہونے میں بہت وقت لگتا ہے اور اس کا علاج فوری طور پر کسی کے پاس نہیں ہے۔میں سوچنے لگا کہ یہ نفسیاتی جنگ ایک لیڈر اور پیشوا کا مسئلہ تو ہے ہی مگر عام زندگی میں بھی یہ جنگ جاری ہے۔عید کا چاند اپنے ساتھ جن توقعات کو لے کر آیا ہے،وہ دراصل انسانی اور تہذیبی زندگی کی اقدار ہیں جن میں سچائی بھی ہے،رواداری،اور محبت کا جذبہ بھی۔میرؔ کا شعر بہرحال میرؔ کا شعر ہے۔
ہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے
نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں
جب’’لباس سوگواراں ‘‘مستقل طور پر وجود کا حصہ بن جائے تو خوشی کا جامہ بھی لباس سوگواراں معلوم ہوتا ہے۔لہٰذا اصل چیز تو وہ احساس ہے جو اندر ہی اندر وجود کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔عید اپنے ساتھ جن خوشیوں کو لے کر آتی ہے،اس پر سب کا حصہ ہے۔لیکن جو دکھ ہے وہ بھی تو سب کا ہونا چاہئے۔اسی لیے دکھ خوشی کے ساتھ زیادہ بڑا معلوم ہوتا ہے اور دکھی بھی۔ جب ہم نم آنکھوں کے ساتھ گلے ملتے ہیں تو خوشی کچھ زیادہ اور مختلف ہو جاتی ہے۔کبھی ہم دوسروں کی آنکھوں میں نمی دیکھ نہیں پاتے اور اور ہماری آنکھیں زیادہ اشکبار ہو جاتی ہیں ۔آنکھوں کی نمی کا تعلق احساس سے ہے اور یہ احساس ہر شخص کے یہاں ایک جیسا نہیں ہے۔خوشی میں ڈوبا ہوا ایک عام آدمی اپنے نئے کپڑوں اور پان کی لالی کے ساتھ کتنا پیارا اور خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔دور دراز علاقے سے عید کے موقع پر جو لوگ گھر آتے ہیں ،انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی عید کا تہوار کس قدر ہماری تہذیبی زندگی میں رچا بسا ہے ۔یہ تہذیبی زندگی ہماری روحانیت کا بھی اشاریہ ہے۔روحانیت کی اپنی ایک طاقت ہے جو بہت مشکل سے حاصل ہوتی ہے۔اس کا ایک ہی رنگ ہے جو فرق کو مٹا دیتا ہے ۔وہ احساس جو عید کے چاند کے ساتھ ہمارے وجود کا حصہ بناتھا اسے کوئی نام دینا ضروری نہیں ۔مگر یہ کہے بغیر کیسے رہا جائے کہ مشکل وقت احساس پر آیا ہے۔اسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے درد مندی ہی نہیں بلکہ ذہنی کشادگی کی بھی ضرورت ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

ادب سرائے

ممتاز نیر : شخصیت اور شاعری( شعری مجموعہ ‘ وفا کے پھول ‘ کے تناظر میں )

احسان قاسمی کچھ لوگ ملٹی وٹامن ملٹی مِنرل کیپسول جیسے ہوتے ہیں ۔ بظاہر ایک کیپسول ۔۔۔۔ لیکن اگر اس
ادب سرائے

مظفر ابدالی كی شاعری پر ایك نظر(صفر سے صفر تك كے حوالے سے)

وسیمہ اختر ریسرچ اسكالر:شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی اردو شاعری کا سفر کئی صدیوں سے جاری ہے جس میں