سیاسی بصیرت

شیعوں اور سنیوں دونوں کا دشمن ہے امریکہ!

شکیل شمسی

بھائیوں یہ بات میں نے نہیں کہی ہے کہ سنیوں اور شیعوں دونوں کا امریکہ دشمن ہے۔ یہ بات امریکہ کے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ Pete Hegseth نے ایک بیان میںیہ بات کھل کر کہی کہ چاہے شیعہ ہوں یا سنی دونوں کا امریکہ دشمن ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت امریکہ کا سامنا اسلام ازم سے ہے اور امریکہ اسلام سے بر سر پیکار ہے۔ہیگستھ کے اس بیان کو لے کر ساری دنیا کے مسلمانوں میں چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں اور عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کا جو مسلمان ساتھ دے رہے ہیں ان کا تعلق کس فرقے سے ہے؟امریکیوں کی پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کو معلوم ہے کہ اس وقت ساری دنیا کے مسلمان ذہنی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہیں۔ان کے پاس خفیہ رپورٹیں ہیں ان کو پاس سی آئی اے اور موساد جیسی خفیہ ایجنسیاں ہیں جو مسلم ممالک میں جا بجا موجود ہیں اور ان کے ذریعہ ہی امریکہ اور اسرائیل کو یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق بھلے ہی عرب ممالک کے حکمراں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہوں لیکن وہاں کے عوام دل سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہیں اور اس کا ثبوت اردن میں ہونے والا عوامی مظاہرہ ہے۔ظاہر ہے کہ عرب ممالک کے قوانین حکومت مخالف مظاہروں کو لے کر بہت سخت ہیں۔ سعودی عرب میں تو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے کی سزا موت ہے اس لئے وہاں کے عوام کا سڑکوں پر اترنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
در اصل امریکہ اور اسرائیل کواس بات کی پوری توقع تھی کہ خلیجی ممالک میں واقع امریکی اڈوں پر حملہ ہونے کے بعد ساری مسلم دنیا مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے گی لیکن ویسا بالکل نہیں ہوا کیوں کہ ایک عام مسلمان بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک کے حکمراں مسلمانوں کی دولت کو امریکہ کی کمپنیوں کے توسط سے امریکی حکومت کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ان کو اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ فلسطینی عوام پر ہو رہے اسرائیلی مظالم کے خلاف خلیجی ممالک کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے جانے کے باعث بھی دنیا بھر کے مسلمان خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے خفا ہیں۔خوشی کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں جیسا اتحاد و اتفاق موجودہ دور میں دیکھا جا رہا ہے ویسا شاید ہی کسی زمانے میں دیکھنے کو ملا ہو۔
ہرچند کچھ صہیونی ایجنٹ مسلکی اختلاف کو ہوا دینے میں مسلسل مصروف ہیں اور خلیجی ممالک کے سربراہوں کی بے گناہی کی قسمیں کھاتے پھر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ٹکڑوں پر پل رہے ان صہیونی ایجنٹوں کی لگاتار یہی کوشش ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کومسلمانوں کا ہمدرد اور ایران کو اسلام کا دشمن قرار دیا جا سکے۔ اب ان سے کوئی سوال کرے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا سبب کیا ہے تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ ایران کو عالمی پابندیوں اور جنگوں کا سامنا صرف اس لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہے۔ ایران کا نہ تو اسرائیل سے کوئی زمین کا جھگڑا ہے نہ کوئی معاشی ٹکرائو۔ ایران کو بربادی اور تباہی کا سامنا محض اس لئے ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے اور فلسطین میں ایک فیصد شیعہ بھی مشکل سے ہی ہوں گے، اس لئے مسلکی لیبل لگانا بھی ممکن نہیں۔
اگر ایرانی حکمراں یہ کہہ کر کہ فلسطینی تو سنی ہیں ہم کو ان سے کیا لینا ، مجرمانہ خاموشی اختیا ر کرلیتے تو آج ایران میں بھی دوبئی اور قطر جیسی عالیشان بلڈنگیں ہوتیں ، اونچے اونچے مینارے ہوتے، عیاشیوں کاسامان ہوتا اور ان کی کرنسی بھی دینار و درہم کے برابر ہوتی۔عرب حکمرانوں کی طرح اگر ایرانی حکومت بھی بیت المقدس کی بازیابی کے معاملے میں خاموش رہتی توامریکہ اور اسرائیل کی نگاہوں میں قابل احترام ہوتی، لیکن ایرانیوں نے اللہ اور رسول کے سامنے خود کو جواب دہ رکھا اور تکلیفوں کا گوارہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر نے تین دن پہلے ایک بیان میں پاکستان کے شیعہ علما سے کہا کہ اگر وہ ایران کی حامی ہیں تو ایران چلے جائیں، اس طرح عاصم منیر نے بھی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی جنگ کو شیعہ سنی کا رنگ دینے کی کوشش کی حالانکہ خود پاکستانی فوج افغانستان اور بلوچستان میں سنی مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ ذرا سوچئے کہ وہ شخص کتنا بڑا سنی مسلمان ہوگا جس کی فوج کابل کے ایک اسپتال پر بم مار کر چار سو لوگوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے۔اصل معاملہ یہ ہے کہ عاصم منیر کو ٹرمپ کے ساتھ لنچ کرنے کا ایک اور موقع چاہئے ہے۔بہرکیف اس بات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ تمام با شعور مسلمان اس وقت ذہنی طور پر متحد ہیں اور یہ بات کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف چل رہی جنگ کو مسلکی رنگ دینے والے تمام لوگ اسلام کےدشمن ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں