خام تیل مہنگا، بھارتی شیئر بازار میں شدید گراوٹ ریکارڈ
خام تیل مہنگا ہونے سے بھارتی شیئر بازار گرا، سینسیکس اور نفٹی میں بڑی کمی، عالمی منڈیوں کے منفی اثرات نمایاں رہے۔
بھارت کے شیئر بازار میں جمعرات کے روز زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کاروباری دن کے اختتام پر سینسیکس تقریباً 3.26 فیصد کمی کے ساتھ 2,496 پوائنٹس گر کر 74,207 کی سطح پر بند ہوا، جبکہ نفٹی بھی اسی تناسب سے 775 پوائنٹس نیچے آ کر 23,002 پر آ گیا۔ دن کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب مارکیٹ میں مزید شدید دباؤ دیکھنے کو ملا اور سینسیکس تقریباً 2,527 پوائنٹس تک نیچے چلا گیا تھا، جبکہ نفٹی بھی 790 پوائنٹس تک گر گیا تھا، تاہم اختتامی لمحات میں کچھ حد تک بہتری دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہے۔ خاص طور پر ایران کے اہم گیس اور تیل کے منصوبے، ساؤتھ پارس گیس فیلڈ، پر حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔ چونکہ بھارت تیل کا بڑا درآمد کنندہ ملک ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کا نتیجہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی صورت میں سامنے آیا۔
عالمی اثرات بھی اس صورتحال میں نمایاں رہے۔ 18 مارچ کو امریکی اسٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں اور منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں ایشیائی بازاروں پر اگلے دن منفی اثر پڑا، جس میں بھارت کی مارکیٹ بھی شامل ہے۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی حالات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا، جس سے فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔اعداد و شمار کے مطابق، اس دن مارکیٹ میں بڑھنے والے شیئرز کی تعداد خاصی کم رہی اور صرف 921 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا، جب کہ 2,923 شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ 122 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ مجموعی طور پر یہ دن بھارتی بازار کے لیے خاصا منفی ثابت ہوا، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر استحکام نہیں آتا، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔






