چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی
رویت ہلال کمیٹی نے چاند نظر نہ آنے پر عید الفطر 21 مارچ کو منانے کا اعلان کیا، رمضان 30 روز مکمل ہوں گے۔
نئی دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹیوں نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ عید الفطر ہفتہ، 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔ یہ فیصلہ شوال المکرم کا چاند نظر نہ آنے کے بعد کیا گیا۔ جمعرات، 19 مارچ 2026 کو متعدد مقامات پر چاند دیکھنے کی کوشش کی گئی، تاہم کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی مستند شہادت موصول نہیں ہو سکی۔ اسی بنیاد پر علماء اور مفتیانِ کرام نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ رمضان المبارک کے روزے 30 مکمل کیے جائیں گے اور یکم شوال 21 مارچ بروز ہفتہ کو ہوگی۔
دہلی کی جامع مسجد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ چوں کہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا، اس لیے رمضان المبارک مکمل 30 دن کا ہوگا۔ اس فیصلے کے مطابق جمعہ، 20 مارچ کو رمضان کا 30واں روزہ ہوگا اور اسی کے بعد اگلے دن عید الفطر منائی جائے گی۔اسی طرح جامعہ اشرفیہ مبارکپور،مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ اور دیگر اہم مذہبی اداروں نے بھی اپنے اپنے مقامات پر چاند کی رویت کے لیے اجلاس منعقد کیے۔ ان کمیٹیوں کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا گیا کہ 19 مارچ کی شام کو کہیں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس بنا پر ان اداروں نے بھی مرکزی فیصلے کی تائید کرتے ہوئے عید الفطر ہفتہ، 21 مارچ کو منانے کا اعلان کیا۔ یہ تمام فیصلے شرعی اصولوں اور معتبر شہادتوں کی بنیاد پر کیے گئے ہیں تاکہ امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی قائم رہے۔
فیصلے کے بعد مذہبی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کے آخری دنوں میں عبادات کا خصوصی اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ چوں کہ جمعرات کی رات کو چاند نظر نہیں آیا، اس لیے تیسویں شب نمازِ تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح جمعہ، 20 مارچ کو رمضان کا آخری روزہ ہوگا، جسے رکھنے کی تمام مسلمانوں سے تاکید کی گئی ہے۔
مذہبی رہنماؤں نے معتکف افراد کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اعتکاف کو مکمل کریں اور عید سے قبل مقررہ وقت تک مساجد میں قیام جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ معتکف حضرات جمعہ کو افطار اور نمازِ مغرب کے بعد اعتکاف مکمل کریں اور پھر اپنی عبادت کے اس خاص دور کو اختتام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو آپس میں حسنِ اخلاق، بھائی چارے اور محبت کا مظاہرہ کرنے کی بھی تلقین کی گئی تاکہ معاشرے میں خوشگوار ماحول برقرار رہے۔






