ایران کے رہنما لاریجانی کا مسلمانوں کے نام پیغام
ایران مزاحمت پر قائم، امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف، اسلامی امت کو متحد ہونے اور امن کے لیے اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔
ایران پر امریکی اور صہیونی عناصر کی طرف سے ایک چالاکانہ جارحیت کی گئی، جو مذاکرات کے دوران انجام پائی۔ اس کا مقصد ایران کی طاقت اور اثرورسوخ کو کمزور کرنا تھا۔ اس حملے میں اسلامی انقلاب کے ایک نمایاں رہنما اور متعدد شہری و فوجی کمانڈر شہید ہوئے، لیکن ایرانی عوام نے اپنی قومی اور اسلامی مزاحمت کے جذبے سے جارحین کو سخت جواب دیا۔یہ بات بھی واضح ہے کہ چند محدود اور نایاب سیاسی موقف رکھنے والے ممالک کے علاوہ، کوئی اسلامی ملک ایران کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا نہیں ہوا۔ پھر بھی ایرانی عوام نے اپنی مضبوط ارادے اور عزم کے ساتھ جارح کو پسپا کیا، یہاں تک کہ آج وہ اس اسٹریٹجک چال میں پھنس کر نکلنے کا راستہ تلاش نہیں کر پا رہے۔
ایران آج بھی امریکہ اور اسرائیل، جنہیں وہ بالترتیب ’بڑا شیطان‘ اور ’چھوٹا شیطان‘ کہتا ہے، کے خلاف مزاحمت کے راستے پر قائم ہے۔ تاہم کیا بعض اسلامی حکومتوں کا رویہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے خلاف نہیں ہے کہ: ’جو شخص کسی کو ‘اے مسلمانو’ پکارتے سنے اور جواب نہ دے، وہ مسلمان نہیں‘؟ یہ کیا اسلام ہے؟
کچھ ممالک نے ایران کو دشمن قرار دیا، خاص طور پر اس وقت جب ایران نے ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں اور امریکی و اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران خاموش رہ سکتا تھا، جب آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈے اس پر حملے کے لیے استعمال ہوتے؟ یہ محض ایک کمزور بہانہ ہے۔ آج کی لڑائی ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں، اور دوسری طرف ایران اور مزاحمتی قوتیں۔ تو آپ کس جانب ہیں؟
اسلامی دنیا کے مستقبل پر بھی غور کریں۔ امریکہ آپ کا حقیقی حلیف نہیں اور اسرائیل ہمیشہ آپ کا دشمن رہے گا۔ ایک لمحہ رک کر اپنے ملک اور خطے کے مستقبل پر سوچیں۔ ایران آپ کے ساتھ مخلص ہے اور آپ پر تسلط حاصل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔اگر اسلامی امت اپنی وحدت اور یکجہتی کے ذریعے پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو یہ تمام ممالک کے لیے امن، ترقی اور آزادی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ یہ وقت سوچنے اور فیصلہ کرنے کا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں۔





