ہم اور ہمارا ملک کس ڈگر چل رہے ہیں؟
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
حالیہ دنوں میں جس طرح سے ملکی و بیرونی سطح پر ناگفتہ بہ ماحول بنائے جارہے ہیں اور سماجی و سیاسی اور دینی و دنیوی سطح پر جس طرح سے انسانیت کا جنازہ نکالا جارہا ہے اس کی مثال شاید و باید ہی گزشتہ ایام میں ملتی ہو۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ آج سیاسی و سماجی اور دینی و دنیوی ہر سطح پر مفاد پرستی اور چالبازی اپنے عروج پر ہے۔
جب سے عزرائیل اور اس کی حمایتی جماعتوں نے اپنا قدم فلسطین پر جمایا ہے تبھی سے مفاد پرستی اور انسانیت سوزی کے وارے نیارے ہورہے ہیں۔ تحفظ انسانیت کے نام پر انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ نیز جس مذہب مہذب نے دنیا کو انسانیت کا درس دیا اور علم و تحقیق اور تہذیب و ثقافت کا انمول تحفہ دیا۔ جس نے جنگ کی گھڑی میں بھی بچوں، بوڑھوں، عورتوں کی جان تلف کرنے سے سخت گریز کیا اور اپنے ماننے والوں کو بھی اس کا سخت پابند بنایا آج ایک بار پھر اس مذہب مہذب کے خلاف محاذ آرائی کی جارہی ہے۔ اسے بدنام کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں تو محض اس لیے کہ یہ مذہب اس عمل پر قدغن لگاتا ہے جو ایک ملک و سماج کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ ہر اس سیاسی و سماجی اور مذہبی عمل کے خلاف صف آرا نظر آتا ہے جو نفرت و تعصب اور فتنہ و انتشار کی بیج بوتا ہے۔ ہر اس علم و فن کو بے سود بتاتا ہے جو ملک و سماج کو جوڑنے کی بجائے توڑنے کا کام کرتا ہے اور انسانیت کے خلاف شازش کا مہرہ بنتا ہے۔ ہر اس قانون کو کالعدم قرار دیتا ہے جو آپسی بھید بھاؤ، اونچ نیچ، ظلم و تشدد، ذات برادری کو بڑھاوا دیتا ہے اور عدل و انصاف کا گلہ گھوٹتا ہے۔ کیوں کہ اس مذہب مہذب کی نظر میں ہر فرد بشر ایک ہی خالق و مالک کا بندہ ہے چاہے وہ جس مذہب پر ایمان و ایقان رکھتا ہے۔ البتہ! یہ مذہب مہذب کے بر خلاف راہ اختیار کرنے والے کے حق میں اصلاح و درستگی پر زور دیتا ہے اور بحیثیت انسان، ہر ایک انسان کو ایک ہی شاخ کا اہم جزو بتاتا ہے۔ بلا وجہ کسی کی بھی جان کے درپے رہنے والے کو پوری انسانیت کا قاتل گردانتا ہے۔ کمزوروں کے ساتھ کھڑا رہنے کی تاکید و تلقین کرتا ہے اور زور آوروں پر نکیل سکتا ہے تاکہ وہ اپنے سے کمزوروں پر ظلم و ستم کا پہاڑ نہ توڑ سکیں۔ یہی وہ اسباب ہیں جو خود غرض اور مطلبی حکمرانوں کو ہضم نہیں ہوتے اور پھر وہ مذہب مہذب کے خلاف لام بندی کرنے میں ساری حدیں پار کر جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں موجودہ ایران و عزرائیل مڈبھیڑ کو بطور خاص دیکھا جاسکتا ہے کہ جہاں محض اس لیے دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ ایک خاص ملک اور طبقے کی اجارہ داری پوری دنیا پر قائم رہ سکے۔
آج جس طرح سے ایران کے حکمران خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور اسے قتل تک کردیا گیا اس سے پوری دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ جینے کا اختیار صرف عزرائیل و امریکہ کو ہے ان کے علاؤہ کسی کو نہیں۔ جو بھی ان کی بات نہیں مانےگا خواہ وہ بات ظلم و جبر کا داعی ہی کیوں نہ ہو اسے تہہ تیغ کردیا جائےگا۔ یہ وہ مزاج ہے جو واضح طور پر انسانیت سوز ہے اور امن و آشتی کے سراسر خلاف ہے۔ ایسے مواقع پر دیگر تمام ممالک کو بالخصوص غور و خوض کرنا چاہیے کہ ایک دو-ملک، دیگر سیکڑوں ممالک کو اس قدر خلفشار کا شکار کیسے بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر دیگر ممالک اس پہلو پر غور و خوض نہیں کرتے اور کوئی منظم اور کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے تو وہ یاد رکھیں کہ ایک نہ دن ان کا بھی نمبر آنے والا ہے۔
اس سے پہلے کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں کہ جتنے بھی حکمرانوں کے خلاف عزرائیل و امریکہ نے افواہیں پھیلائیں، وہ افواہیں ثابت تو نہیں ہوسکیں۔ لیکن ان افواہوں کی آڑ میں ٹارگیٹیڈ ممالک کے ساتھ اور وہاں کی عوام و خواص کو جس قدر نقصان پہنچایا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ عام جان و مال کے ساتھ ایک سے بڑھ ایک حکمرانوں کا قتل عام کیا گیا۔ صدام حسین، کرنل قذافی اور شاہ فیصل وغیرہ قائدین اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس کے باوجود دیگر ممالک تماشائی بنے دیکھتے رہے اور وہ یہ سمجھ کر مطمئن رہے کہ یہ ان کا معاملہ نہیں ہے۔ آج یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ساری دنیا بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص افراتفری کی چپیٹ میں ہیں اور آج تمام تر زیب و آرائش کے اسباب ہوتے ایک لمحہ کو بھی چین میسر نہیں ہے۔ آج جس ایران کو اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ ہونا چاہیے وہ آج ان پر حملہ آور ہے۔ بلاشبہ یہ کسی بھی لحاظ سے سراہے جانے کے قابل نہیں ہے لیکن سوال یہ بھی پیدا ہے کہ آخر ایران اپنے پڑوسی ممالک پر یوں حملہ آور کیوں ہے؟ جب اس پہلو پر غور و فکر کرتے ہیں تو ایران اپنے عمل میں حق بجانب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک میں ان مقامات کو نشانہ بنارہا ہے جن پر عزرائیل و امریکہ نے اپنا قبضہ جما رکھا ہے، جن مقامات کو یرغمال بنارکھا ہے اور جہاں اپنے خطرناک ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں جنھیں ایران کے خلاف استعمال میں لا سکیں، تو ان مقامات پر بغرض تحفظ کوئی سخت قدم اٹھانے میں حرج کیا ہے؟ اس کے برعکس اگر آج بھی پڑوسی ممالک، عزرائیل و امریکہ سے کنارہ کش ہوجائیں اور انھیں اپنے یہاں سے واپسی پر مجبور کردیں تو یہ معاملات رک سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی چالبازیوں میں تمام عرب کو یوں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے کہ انھیں اپنے عیش و طرب کے سامان کے سوا کچھ نہیں نظر ہی آتا ہے۔ حالاں کہ شواہد بتاتے ہیں کہ اگر اپنے آبا و اجداد کے طرز پر اہل عرب آج بھی پہلے کی طرح جفاکشی اور جہد مسلسل کا عادی ہوجائیں تو یورپی شاطر بازوں کی تمام تر شاطر بازیاں دھری کی دھری رہ جائیں۔
یہی حال کچھ بلکہ اس سے بھی بدتر احوال خود ہمارے ملک ہندوستان میں ہیں جو اندرون و بیرون ہر سطح پر جزبز کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ ایام میں بھی ہندوستان مفاد پرستی کا شکار رہا ہے اور مختلف بدعنوانیوں میں ملوث رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 2014 کے بعد جس جوش و خروش کے ساتھ ہندوستانی عوام نے حکومت کی تبدیلی کی تھی اور جن تمناؤں کے ساتھ موجودہ حکومت کا خیر مقدم کیا تھا اس کا عشر عشیر بھی باشندگان ہند کو حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ اس کے بر خلاف آئے دن مسائل پیدا کیے جارہے ہیں اور ان مسائل کو سلجھانے کی بجائے مزید انھیں ہوا دی جارہی ہے اور سیاسی روٹیاں سیکی جارہی ہے اور مزے سے کھائی بھی جارہی ہے۔
ہندوستان میں آج کی سیاست جس انداز کروٹ لے رہی ہے وہ کسی بھی اعتبار سے ہندوستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہندوستان صرف اپنے لوگوں کا خیر خواہ نہیں رہا ہے بلکہ اس نے اپنے مہمانوں کو بھی اپنے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ لیکن ابھی کچھ دنوں پہلے ہندوستان کے مہمان ایرانی بیڑے کے ساتھ عزرائیل و امریکہ نے جو سلوک کیا ہے وہ کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے مگر ہمارا ملک جس ناقابل یقین حد تک خاموش ہے وہ ہمارے ملک و سماج کے لیے مزید سوہان روح کا باعث ہے اور ملک و بیرون ملک ہماری ساکھ پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ پھر جس طرح سے ہمارے ملک کے مکھیا نے عزرائیل میں جاکر ’فادر لینڈ‘ اور ’مدر لینڈ‘ کا شوشہ چھوڑا ہے اس نے بھی ہماری مٹی پلید کرکے رکھ دی ہے۔ دوسری طرف برسوں سے جو ایران کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ تعلقات رہے ہیں اس پر بھی کلہاڑی مار دی گئی ہے۔ جب کہ آزادی سے لے کر منموہن سنگھ تک جتنے بھی وزرائے اعظم گزرے ہیں سبھوں نے ایران کے ساتھ خوشگوار دوستانہ تعلقات رکھے ہیں اور ہر دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا تعاون کیا ہے۔ خود حکمران جماعت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں تزویراتی شراکت داری، توانائی اور معیشت اور بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے سلسلے میں خاصے خوشگوار قدم اٹھائے گئے تھے، جس کا اصل مقصد خطے میں ایران کے ساتھ دوستی کو بڑھاوا دینا اور توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
لیکن افسوس کہ آج اس پہلو کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے اور عالمی سیاسی سطح پر ایک سنہرے باب کا دروازہ بند کیا جارہا ہے۔ نیز اندرون ملک بھی محض اس پہلو پر سارا فوکس مرکوز رکھا جارہا ہے کہ کس طرح حزب مخالف کو پست کیا جائے اور کس طرح اس کی حکومت کو ختم کرکے اپنی حکومت قائم کر لی جائے، اور اس کے لیے اخلاقی و مذہبی اور سیاسی و سماجی ساری حدیں بھی پار کرنے سے گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ کسی بھی ملک و معاشرت کی تعمیر و ترقی کے لیے معقول روزگار، تعلیم و تجارت کے مواقع، گرم بازاری پر قابو، صاف و شفاف انتخابات، عوام الناس کی بنیادی سہولیتیں، عوامی وعدوں کی تکمیل، تعاون باہم اور احترام باہم کے اسباب کی فراہمی اور مذہبی رواداری پر فوکس کیا جانا اور اس راہ میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو دور کرنا از حد ضروری ہے۔ لیکن اس کے برعکس ان پہلوؤں کو یکسر فراموش کردیا گیا ہے۔ لہذا یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ان تمام باتوں کے بغیر ہمارے معاشرے کی تعمیر وترقی کیسے ہوگی اور ہمارا ملک”وشوو گرو” کیسے بنےگا جس کا خواب سنجوئے ہم سبھی بیٹھے ہیں۔
Md Jahangir Hasan
Delhi, India Contact:
91-9910865854,
91-9794364306,





