ایران اسرائیل جنگ توقعات کے برعکس پیچیدہ،حکمت عملی پر نظرثانی
اسرائیلی ذرائع کا اعتراف، ایران کے خلاف جنگ توقع سے زیادہ پیچیدہ، حکمت عملی پر نظرثانی کا امکان، ہزاروں ہلاکتیں، ایران نے امریکی دعویٰ مسترد کردیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اسرائیلی سکیورٹی حلقوں کی جانب سے اس بات کا اعتراف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکی جس کی ابتدائی مرحلے میں توقع کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز میں اسرائیلی فوج نے چند اہم اہداف کو محدود مدت میں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم عملی میدان میں حالات منصوبوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی صورتحال کے بدلتے ہوئے حالات نے حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے۔ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق موجودہ حالات میں فوجی قیادت کو اپنی جنگی حکمت عملی اور مقاصد کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور خطے میں موجود اس کے اتحادی عناصر اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث فوری نتائج حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں مختلف محاذوں پر بیک وقت کشیدگی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور لبنان کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 3138 افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ہلاکتوں میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے باعث جانی نقصان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ جاری تنازع نے پورے خطے میں سلامتی کی صورتحال کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین بھی خبردار کر رہے ہیں کہ جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں نہ صرف ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے بلکہ انسانی بحران کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ایران نے کسی بھی مرحلے پر امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے رابطہ نہیں کیا۔ایک ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایران نے کبھی بھی جنگ روکنے کے لیے امریکہ سے درخواست نہیں کی اور نہ ہی کسی خفیہ مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے تحت اپنے فیصلے نہیں کرے گا۔





