برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں، اسٹارمر کا بیان
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ٹرمپ سے اچھے تعلقات ہیں، آبنائے ہرمز پر بات ہوئی، مگر فیصلے برطانیہ کے مفاد میں ہوں گے۔
برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات مثبت اور تعمیری نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے یہ بات لندن میں واقع ڈاؤننگ اسٹریٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں ان سے عالمی صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔
ایک صحافی نے وزیرِاعظم سے پوچھا کہ کیا برطانیہ، امریکی صدر کی اس درخواست پر عمل کرے گا جس میں مختلف ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز تعینات کریں۔ اس سوال کے جواب میں کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت ہوئی تھی جس میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مناسب اور قابلِ عمل حکمتِ عملی پر بات ہو رہی ہے، تاہم یہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی صورتحال پیچیدہ ہے اور کسی بھی فیصلے سے پہلے تمام پہلوؤں کو غور سے دیکھنا ضروری ہے۔
اسی دوران ایک اور صحافی نے وزیرِاعظم سے قدرے مختلف انداز میں سوال کیا اور کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر کے ساتھ اپنے تعلقات کو صفر سے دس تک کے پیمانے پر جانچیں تو انہیں کتنے نمبر دیں گے۔ اس پر اسٹارمر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور حالیہ گفتگو بھی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ کئی دہائیوں سے قریبی اتحادی رہے ہیں اور مختلف عالمی مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ بطور وزیرِاعظم ان کی بنیادی ذمہ داری برطانیہ کے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی سربراہِ حکومت کسی بڑے بین الاقوامی فیصلے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتا کہ چند دن بعد اسے اپنی رائے بدلنی ہے۔ اس لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک سمیت کئی اتحادی ریاستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے پیش نظر اپنی بحری قوت تعینات کریں تاکہ عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو کھلا رکھا جا سکے۔





