ایران کے حملوں پر یو اے ای کی شدید مذمت، سفارتکاری پر زور
یو اے ای نے ایران کے حملوں کی مذمت کی، سفارتکاری پر زور دیا اور امریکی فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین دینے سے انکار کیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت لانا نسیبہ نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ انتہائی سنگین نوعیت کے بھی ہیں، اور انہیں کسی واضح اشتعال کے بغیر انجام دیا گیا۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں نے پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے لانا نسیبہ نے کہا کہ ان حملوں کی شدت اور ان کا دائرہ کار تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیوں نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس تنازع میں کھینچ لیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف کسی قسم کی جوابی کارروائی کرے گا یا نہیں۔
انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ امارات خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور موجودہ بحران کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی میں کمی لانے اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔لانا نسیبہ نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے امارات کی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی استحکام دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ حملوں کے باوجود متحدہ عرب امارات کی معیشت مضبوط ہے اور ملک اپنے اہم شعبوں کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے اور سیاحت کے شعبے پر پڑنے والے اثرات کے باوجود معیشت مستحکم ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور چند ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
اسی دوران کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈرون اور میزائل حملوں کی تصاویر لینے یا انہیں شیئر کرنے کے الزام میں چند افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سخت قوانین کے تحت کی گئی یہ گرفتاریاں موجودہ صورتحال کی اصل تصویر سامنے آنے سے روکنے کی کوشش ہو سکتی ہیں۔ تاہم لانا نسیبہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں اور حکومت شفافیت کے اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔





