راہل گاندھی کا الزام: لوک سبھا میں بولنے سے بار بار روکا جاتا ہے
راہل گاندھی نے لوک سبھا میں الزام لگایا کہ انہیں بولنے نہیں دیا جاتا، بی جے پی نے ان کے رویے پر اعتراض اٹھایا۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ایوان میں اپنی بات مکمل طور پر رکھنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ بدھ کے روز بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے دوران کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی اپوزیشن کے اراکین بولنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں بار بار روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے اہم معاملات پر گفتگو ممکن نہیں ہو پاتی۔راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں جب وہ تقریر کر رہے تھے تو انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے بعض معاہدوں کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہوں نے یہ معاملات اٹھائے، انہیں بات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایک بحث کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے سے روک دیا گیا، جو ان کے مطابق پارلیمانی تاریخ میں غیر معمولی بات ہے۔
کانگریس رہنما کے مطابق انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کئی اہم موضوعات کا ذکر کیا تھا، جن میں وزیر اعظم کے بعض بین الاقوامی معاہدوں کا معاملہ، جنرل منوج مکند نروانے سے متعلق بحث، امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ اور صنعت کار گوتم اڈانی سے متعلق سوالات شامل تھے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ان موضوعات کو اٹھاتے ہی انہیں خاموش کرا دیا گیا اور انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔دوسری جانب حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف کے رویّے کا مناسب ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے لوک سبھا میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پارلیمانی روایات اور قواعد کا احترام کریں۔
روی شنکر پرساد نے مزید کہا کہ ایوان کے قواعد و ضوابط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی رکن کا طرزِ عمل قواعد کے مطابق نہ ہو تو کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ قائدِ حزبِ اختلاف کو پارلیمنٹ کے قواعد پڑھا دیں تاکہ ایوان کی کارروائی بہتر انداز میں چل سکے۔





