سیاسی بصیرت

مسلمان اس وقت صرف دو حصوں میں بٹے ہیں

شکیل شمسی

مسلمانوں میں یوں تو درجنوں فرقے ہیں لیکن  ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد اللہ کا کرم کچھ ایسا ہوا کہ تمام مسالک سمٹ کرصرف دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ۔ اس وقت مسلمانان عالم  یا تو ایران کے ساتھ ہیں یا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ  ہیں۔ہر چند کہ اسرائیل اور امریکہ کے کچھ ایجنٹ  سوشل میڈیا کے ذریعہ اس جنگ میں شیعہ سنی کا مسالہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور صبح اٹھتے ہیں یہود و نصاریٰ  کے مشترکہ مشن کو آگے بڑھانے میں لگ جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ ان کی  روزی روٹی کا معاملہ ہے ۔اسرائیل اور امریکہ سے اچھے پیسے ملتے  ہیں اور اب تو پیسے لینے کے لیے سفارت خانے تک جانے کی زحمت بھی کرنا نہیں پڑتی بلکہ آن لائین ہی پیسے ٹرانسفر ہوجاتے ہیں۔مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے والے عناصر مسلسل اس بات کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ عرب ممالک میں امریکہ کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں کو عربوں کی شاہی پر ہونے والا حملہ قراردیں، حالاں کہ اس وقت عالم یہ ہے کہ عرب ممالک کے باشندے بھی امریکی ٹھکانوں پر ہونے والے  حملوں سے بہت خوش ہیں۔آن لائین پوسٹ ہونے والے ویڈیوز میں جو خوشی بھری آوازیں سنائی پڑتی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عربی عوام اپنے ملک کے سربراہوں کی امریکہ پرستی سے کتنے نالاں ہیں۔

دنیا بھر کے مسلمان اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ہر دور میں عرب ممالک نے اسلام دشمن طاقتوں کا ساتھ دیا ہے۔ جب خلافت عثمانیہ کو امریکہ اور برطانیہ کے اتحادیوں نے برباد کیا تو ان عرب ممالک کے حکمرانوں کے والدین یا اجداد  نے ترکی کی خلافت عثمانیہ کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ترک حکومت صوفی مشرک ہے۔ جب صدام حسین پر امریکہ نے یلغار کی تو ان ہی حکمرانوں نے صدام کو بعثی لامذہب قرار دے کر امریکہ اوراس کے حلیفوں کی ہر طرح مدد کی۔جب افغانستان پر امریکیوں نے ناٹو ممالک کے ساتھ مل کر یورش کی تو یہی عرب حکمراں افغانیوں کو دہشت گرد قرار دے رہے تھے۔جب امریکہ نے قذافی پر یلغار کی تو یہی عرب ممالک قذافی کو کافر ثابت کرنے میں لگے تھے۔ جب اسرائیل نے امریکہ کی کھلی حمایت کے ساتھ غزہ کو ایک وسیع و عریض کھنڈر میں تبدیل کر دیا تب بھی یہ لوگ فلسطینیوں کو بہکا ہوا مسلمان قرار دینےمیں لگے تھے۔اب ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے دوسری بار عرب ممالک میں قائم فوجی اڈوں سے حملہ کیا ہے تو عرب ممالک کے ایجنٹ ایرانیوں کو رافضی اور نہ  جانے کیسے کیسے نام دینے میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بطور امریکی ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں کو عرب ملکوں پر حملہ قرار دے کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں،حالا ں کہ صہیونی ایجنٹ اور امریکی دلال ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ہر مسلمان دیکھ رہا ہے کہ  اگر ایران کو عرب ممالک سے دشمنی ہوتی تو وہ سب سے پہلے وہاں کے شاہوں کے محلوں کو نشانہ بناتا۔

الغرض دنیا میں جہاں جہاں امریکہ حملہ کرتا ہے عرب ممالک کے حکمراں امریکیوں کی پیٹھ تھپتھپانے میں لگ جاتے ہیں ۔ ایسا کرنے میں ان کی مجبوری بھی ہے ان کے کھربوں ڈالرکے اثاثے مغربی ممالک کے بینکوں میں رکھے ہیں اور امریکہ کی تھوڑی سے ناراضگی مول لینے کی ہمت دکھانے پر وہ اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور آن واحد میں ان کے ملک کی کرنسی عرش سے فرش پر آ جائے گی۔خوشی کی بات یہ ہے کہ ابھی تک تمام عرب ملکوں نے زبانی احتجاج تو کیا ہے ایران کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ہمارا بھی ان کو یہی مشورہ ہے کہ جنگ سے دو ررہیں اور امریکہ پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالیں کہ وہ عرب ملکوں کی سر زمین کا استعمال ایران پر حملوں کے لیے نہ کرے۔

جہاں تک جنگ کا معاملہ ہے تو صہیونیوں کا اس وقت دم نکلا جا رہا ہے۔ حقوق انسانی کو ہر دور میں پامال کرنے  والے صہیونی اب حقوق انسانی کی دہائی دے رہے ہیں۔ غزہ میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کو شہید کرنے والی طاقت اب تل ابیب پر گرنے والے ایران کے شاندار میزائلوں کو عام شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔اسرائیلیوں کے چیخنے چلانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ بے گناہوں کو مارا ہے کبھی ان کے گھر میں گھس کر ان کی پٹائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ایران نے بتا دیا کہ ظالموں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئے۔یہ ایران کا کمال ہے کہ آج اسرائیلی قیادت کے  سر پر موت منڈرا رہی ہے اور وہ شیلٹرس میں چھپ چھپ کر جینے پر مجبور ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں